ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہشت گردانہ حملے کا خطرہ۔ ساحلی کرناٹکا سمیت پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری۔ منگلورو میں ایک لاڈج سے 9مشتبہ افراد گرفتار

دہشت گردانہ حملے کا خطرہ۔ ساحلی کرناٹکا سمیت پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری۔ منگلورو میں ایک لاڈج سے 9مشتبہ افراد گرفتار

Sat, 17 Aug 2019 12:27:41    S.O. News Service

منگلورو17/اگست (ایس او نیوز) ملک کی خفیہ ایجنسی نے کشمیر میں دستور کی دفعہ 370aاور ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ ہٹائے جانے کے خلاف ملک کے اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے، جس کے بعد پوری ریاست کے اہم شہروں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

 بنگلورو سے ملنے والی خبروں کے مطابق وہاں پر احتیاطی حفاظتی انتظامات کے لئے کمانڈوز اور کرناٹکا اسٹیٹ ریزرو پولیس کی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا گیا ہے جو شہر کے اہم مقامات پر پٹرولنگ کررہے ہیں۔سٹی پولیس کمشنر بھاسکر راؤ نے ایڈیشنل پولیس کمشنراور ڈپٹی پولیس کمشنروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔اس کے علاوہ وھان سودھا، وکاس سودھا، بی ایم ٹی سی، کے ایس آر ٹی سی، ریلوے اسٹیشنس، ایئر پورٹ،اہم مالس،بڑی کمپنیوں، مندر، مساجد اوردیگر عبادت گاہوں کے اطراف حفاظتی بندوبست کے لئے مزید فورس طلب کرلی گئی ہے۔

 ایک رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں سمندر کے راستے سے مچھیروں کے بھیس میں دہشت گردانہ حملے کے امکانات ظاہرکیے گئے ہیں۔ اس وجہ سے ساحلی کرناٹکا میں خصوصی چوکسی برتی جارہی ہے۔ 

شمالی کینرا میں چوکسی:    پاکستانی حمایت یافتہ تنظیموں اور افراد کی جانب سے بحیرہ  عرب کے راستے سے دہشت گردانہ حملے کے امکانات کا خدشہ ظاہر کرنے والی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ ملنے کے بعدضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار کی ہدایات پر تقریباً 150کیلو میٹر ساحلی علاقے پر مشتمل ضلع شمالی کینرا میں بھی اہم مقامات پر حفاظتی چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ڈاکٹر ہریش کمارنے محکمہ ماہی گیری کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوامکانی خطرے سے آگاہ کردیا ہے اور ریاستی یا بیرون ریاست سے ماہی گیری کے لئے شمالی کینرا کے سمندر میں آنے والے مچھیروں اور ان کی کشتیوں پر کڑی نظر رکھنے  کی ہدایات جاری کی ہیں۔اس پس منظر میں محکمہ ماہی گیری، کوسٹل سیکیوریٹی پولیس اورکوسٹ گارڈز نے سمندری راستے پر اپنی نگرانی تیز کردی ہے۔ماہی گیر وں کی تنظیموں اور یونین کو پیغام روانہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی اجنبی شخص، مشتبہ کشتی یا مشکوک سرگرمی کے تعلق سے انہیں کچھ معلومات ملتی ہیں تو فوری طورپر اسے متعلقہ محکمہ جات اور افسران کے علم میں لایا جائے۔

بحری اڈہ’سی برڈ‘پر خصوصی نگرانی:    ضلع شمالی کینرا میں موجود ایشیاء کے سب سے بڑے بحری اڈے ’سی برڈ‘کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنائے جانے کے خدشے کی وجہ سے اس کے اطراف’ہائی الرٹ‘ کا اعلان کرکے خصوصی نگرانی رکھی جارہی ہے۔’سی برڈ‘ کے رابطہ عامہ سے متعلق افسر اجئے کپور نے بتایا کہ بحری اڈے کے اندر آنے جانے والوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جارہی ہے اور اس کا مسلسل معائنہ کیا جارہا ہے۔

منگلورو میں ہائی الرٹ:پتہ چلا ہے کہ خفیہ ایجنسی کی رپورٹ ملنے کے بعد منگلورو میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور انہوں نے شہر کے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹانڈ، موڈیپو انفوسس، سوریا انفو ٹیک جیسی بہت سی اہم آئی ٹی کمپنیوں اور شیما ہاسپٹل، منگلورو یونیورسٹی کے علاوہ کئی مشہور و معروف مالس اور عمارتوں پر مشتمل مختلف اہم ٹھکانوں پرڈاگ اسکواڈ اور بم ناکارہ کرنے والے اسکواڈ کے ساتھ جمعہ کے دن سرچ آپریشن چلایا۔

9مشتبہ افراد گرفتار؟: میڈیا میں نشر ہونے والی ایک خبر کے مطابق جمعہ کی شام میں مختلف لاڈجنگس اور ہوٹلس میں جب تلاشی مہم چلائی جارہی تھی، تو پولیس نے منگلورو میں پمپ ویل کے پاس واقع ایک لاڈج سے 9مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اور ان کے قبضے سے ایک کار بھی ضبط کی ہے جس پر ’نیشنل انویسٹی گیشن بیوریو‘ اور ’گورنمنٹ آف انڈیا‘ لکھا ہوا ہے جبکہ نمبر پلیٹ پر صرف ’رجسٹرڈ‘ کا اسٹیکر چپکا ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کا تعلق مڈیکیرے، کیرالہ اور منگلوروسے ہے۔ اور پولیس ان سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔مگر پولیس کی طرف سے ابھی تک ان افراد کی حقیقی شناخت کے تعلق سے کسی بھی قسم کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے اور گرفتاری کی تصدیق یا تردید بھی نہیں کی گئی ہے۔اخباری نمائندوں کی جانب سے رابطہ قائم کیے جانے پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

منگلورو سٹی پولیس کمشنراور ڈی سی کا بیان: ڈاکٹر ہرشا پی ایس منگلورو سٹی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ یوم آزادی سے پہلے احتیاطی اقدام کے طور پر کچھ دنوں قبل اس طرح کی تلاشیاں لی گئیں تھیں۔ اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر تازہ تلاشی مہم چلائی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی کینرا ضلع ڈپٹی کمشنر سسی کانت نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے عام طورپر دہشت گردانہ کارروائی کے امکانات کی وارننگ جاری ہوتی رہتی ہے۔اس لئے اب کی بار بھی متعلقہ محکمہ جات کوچوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

خبر ہے کہ اڈپی شہر میں بھی بس اسٹانڈ، ریلوے اسٹیشن اور اہم مقامات پراسی طرح کی تلاشی مہم چلائی گئی ہے۔اڈپی ضلع ایس پی نیشا جیمز کے مطابق گنگولی اور کنداپور کے بندرگاہی علاقے میں سخت حفاظتی چوکسی کا اہتمام کیا گیا ہے۔


Share: