ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دھرم سنسد کو کلین چٹ پر کورٹ برہم، دہلی پولیس شرمسار، سپریم کورٹ نے پوچھا کہ ’’ حلف نامہ داخل کرتے وقت دماغ کا استعمال کیا ہے یا نہیں؟‘‘

دھرم سنسد کو کلین چٹ پر کورٹ برہم، دہلی پولیس شرمسار، سپریم کورٹ نے پوچھا کہ ’’ حلف نامہ داخل کرتے وقت دماغ کا استعمال کیا ہے یا نہیں؟‘‘

Sat, 23 Apr 2022 10:42:51    S.O. News Service

 نئی دہلی ، 23؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے  دہلی میں ہونے والی دھرم سنسد کے معاملے میں دہلی پولیس کے جواب پر شدید  ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کو  ایک نیا حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا۔جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس اے ایس  اوکا کی ڈویژن بنچ نے شدید برہمی ظاہر کرنے کے دوران پولیس اور سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ حلف نامہ داخل کرنے والے متعلقہ افسر نے اس معاملے میں دیگر پہلوؤں پر غور کیا ہے یا بلا غور و خوض  انکوائری رپورٹ دوبارہ پیش کر دی گئی ۔ کیا اس معاملے میں دہلی پولیس کے افسران نے دماغ کا استعمال کیا ہے ؟ یا پھر ایسے ہی رپورٹ پیش کردی گئی ۔

  سپریم کورٹ کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپ  اپنے جواب پر  پھر سے غور وخوض کرنا چاہتے ہیں؟ تو دہلی پولیس کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالسٹر جنرل کے ایم نٹراج نےکہا کہ ہمیں پھر سے دیکھنا ہوگا اور ایک نیا حلف نامہ داخل کر نا ہوگا۔اس پر عدالت عظمیٰ نے دہلی پولیس کو غور و خوض کرکے ایک  بہتر  اورنیا حلف نامہ 4مئی تک دائر کرنے کا حکم دیا ۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 9مئی کو کرے گا۔  عدالت 26 اپریل کو ہماچل پردیش میں دھرم سنسد  میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اسی طرح کی ایک عرضی  پر سماعت کرے گی۔  یاد رہے کہ دہلی پولیس نے 14اپریل کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے  دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی راجدھانی میں منعقدہ ’دھرم سنسد‘  پروگرام میں مسلم برادری کے خلاف نسل کشی کی اپیل کا الزام  بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ دہلی پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ شکایت بے بنیاد ہونے کے سبب اس کیس کو بند کر دیا گیا ہے۔ 

 ساؤتھ ایسٹ دہلی کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایشا پانڈے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے دہلی پولیس کی نمائندگی کی تھی۔ حلف نامے میں کہا گیا کہ شکایت کی بنیاد پر متعلقہ ویڈیو کلپس اور دیگر مواد کی مکمل چھان بین کی گئی۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات میں کوئی ثبوت ایسا نہیں پایا گیا جس کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کسی خاص برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ حلف نامے میں تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پروگرام میں کسی خاص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے والے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا۔  یاد رہے کہ گزشتہ سال 19دسمبر کو گووند پوری میٹرو اسٹیشن کے پاس بنارسی داس چاندی والا آڈیٹوریم میں ہندو یووا واہنی کی جانب سے منعقد پروگرام میں نفرت انگیز تقریر کے الزامات لگائے گئے تھے۔دہلی پولیس کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام میں کسی گروہ، برادری، نسل، مذہب یا عقیدے کے خلاف نفرت انگیز بیانات نہیں دیے گئے تھے۔ حلف نامے میں دہلی پولیس نے کہا تھا کہ تقریر میں وہ الفاظ استعمال نہیں  کئےگئے جنھیں کسی مذہب، ذات یا نسل کے درمیان ماحول خراب کرنے کی کوشش سمجھا جائے۔ اسی حلف نامہ پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیاہے اور دہلی پولیس سے پوچھا ہے کہ اسے تیا ر کرتے وقت دماغ کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں ؟ یا پھر پولیس کی رپورٹ ایسے ہی پیش کردی گئی ۔  دوسری طرف عرضی گزاروں کی جانب سے پولیس افسران پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے ساتھ ملی بھگت کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔ 


Share: