ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دلتوں پرتشددکاشاخسانہ،گھرواپسی کی مہم کاکیاہوگا؟اونا :گؤرکشو ں سے مار کھانے والے دلت خاندان نے بودھ مذہب قبول کیا

دلتوں پرتشددکاشاخسانہ،گھرواپسی کی مہم کاکیاہوگا؟اونا :گؤرکشو ں سے مار کھانے والے دلت خاندان نے بودھ مذہب قبول کیا

Sun, 29 Apr 2018 19:58:39    S.O. News Service

نئی دہلی،29؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )2سال پہلے گجرات کے گر سومناتھ ضلع کے اونا تحصیل میں گؤرکشوں کے حملے سے بری طرح زخمی ہوئے ایک دلت خاندان سے4ارکان سمیت7لوگوں نے بدھ مذہب قبول کرلیاہے۔گجرات کے اوناکے بولڈ سامڈھیالا میں دلت متاثرہ خاندان نے اتوار کو بدھ مذہب کو اپنالیاہے ۔دلتوں پر ہو رہے تشدد اور حکومت کی غفلت سے ناراض اس دلت خاندان نے بدھ مذہب اپنانے کا فیصلہ لیا۔بدھ مذہب کے مقصد کے ساتھ گجرات کے ایک دلت خاندان کے 7 لوگوں نے بدھ مذہب کی شروعات کی ۔ اونا کا یہ دلت خاندان اس وقت بحث میں آیا جب گؤرکشوں کے نام پر کچھ لوگوں نے مری ہوئی گائے کا چمڑ ہ نکال رہے اس دلت خاندان پر حملہ کرکے انہیں بری طرح مارا پیٹا اور زخمی کر دیا۔یہی نہیں حملہ آور انہیں مارتے مارتے 10 کلومیٹر تک اونا پولیس اسٹیشن کے سامنے لے گئے۔جہاں انہیں گاڑی کے ساتھ باندھ کر پھر مارا گیا۔اس واقعہ کے ڈیڑھ سال کے بعد ان لوگوں نے بدھ مذہب کی شروعات کردی۔متاثرہ دلت رمیش سرویا کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ اب تک انصاف نہیں ہوا، جو ملزم ہیں وہ ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں، یہی نہیں حکومت نے جو وعدہ کیا تھا، اسے بھی اب تک مکمل نہیں کیا گیا ہے۔اس دلت خاندان کے ساتھ ساتھ آج گاؤں کے تقریباً50لوگوں نے بھی مذہب تبدیل کر لیا۔11 جولائی 2016 کو رمیش سرویا، بھائی وسرام، اشوک اور اس کے کزن بیچر کو نیم برہنہ حالات میں گاڑی سے باندھ کر مارتے-پیٹتے ہوئے گھسیٹا گیا تھا۔اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں جم کر ناراضگی دیکھنے کو ملی ساتھ ہی اس ظلم کو لے کر خوب سیاسی ردعمل بھی ظاہر کیا گیا تھا ۔اس واقعہ کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنی گئی۔حالانکہ بدھ مت قبول کرنے والے دلت اس تبدیلی مذہب کے پیچھے حکومت کی وعدہ خلافی کو بنیادی وجہ مانتے ہیں ۔اونا کے ایس ایس پی ہتیش جوتاریا نے مذہب تبدیلی پر کہا کہ اس دلت خاندان نے مارچ 2018 میں ضلع کلکٹر کو صرف ایک میمو دیا تھا کہ وہ بدھ مت قبول کر سکتے ہیں۔حالانکہ اس کے بعد حکومت نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی سرکاری قوانین کے مطابق ان لوگوں نے تبدیلی مذہب کا کوئی فارم ہی بھرا ہوا ہے۔معاملہ کافی حساس ہونے کی وجہ سے قانون و نظام کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس نے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ہیں۔


Share: