ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت کی نئی انٹرنیٹ پالیسی کے خلاف واٹس ایپ نے دہلی ہائی کورٹ سے کیا رجوع

حکومت کی نئی انٹرنیٹ پالیسی کے خلاف واٹس ایپ نے دہلی ہائی کورٹ سے کیا رجوع

Thu, 27 May 2021 13:00:26    S.O. News Service

نئی دہلی،27؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت  کی نئی انٹرنیٹ پالیسی  کے بارے میں بحث و مباحثہ جاری ہے ، اسی اثناء میں ان قواعد کے خلاف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے دہلی ہائی کورٹ  سے رجوع ہوتے ہوئے  اس پالیسی کو غیر دستوری قرار دیا ہے۔ وہاٹس ایپ نے صارفین کی رازداری پر اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے  آج سے نافذ العمل قوانین کے خلاف  دہلی ہائی کورٹ میں  عرضی  دائر کی ہے۔وہاٹس ایپ  کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے وہ صارفین کے رازداری کے تحفظ کو توڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔ فیس بک کی ملکیت والی کمپنی نے منگل کو یہ مقدمہ درج کرایا ہے۔

نئی انٹرنیٹ پالیسی کے مطابق ، وہاٹس ایپ پر ایک نیا  اطلاق لازمی  ہوگا جس کے تحت  پوچھے جانے پر وہاٹس ایپ کو  یہ بتانا پڑے گا کہ  ایپ پر پوچھا گیا  پیغام سب سے پہلے کہاں سے آیا  ؟  وہاٹس ایپ نے ایک بیان جاری کیا ہے  جس میں کہا گیا ہے کہ وہاٹس ایپ پر چاٹ کو ٹریس کرنے پر مجبور کرنے والا یہ قانون وہاٹس ایپ پرآنے والے ہر پیغام کی فنگر پرنٹ رکھنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم یہ کرتے ہیں تو  پیغام کی  خفیہ کاری  یعنی   end to end encryptedبے معنی ہوگی اور لوگوں کی رازداری کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے صارفین کے رازداری کے حق کے تحفظ کے لیے سول سوسائٹی اور دنیا بھر کے ماہرین کے ساتھ مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ اس دوران ہم اس مسئلے پر قابل عمل حل تلاش کرنے کے لیے حکومت ہند سے مستقل مذاکرات جاری رکھیں گے ، تاکہ ہم لوگوں کی رازداری کا تحفظ کرسکیں اور جو معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق جائز قانونی درخواستوں کے ساتھ تعاون کرسکیں.


Share: