بھٹکل 9/ فرروی (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک کے اُڈپی میں حجاب کا معاملہ اُٹھنے کے بعد ایک طرف ایک طالبہ نے معاملہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ایڈوکیٹ طاہرحُسین کی خدمات حاصل کیں تو اُڈپی مسلم اُوکوٹا نے معاملے کی پیروی کے لئے اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) سے رابطہ کیا اور اے پی سی آرنے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل دیودت کامتھ کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے منگل اور بدھ کوحجابی طالبات کی بہت ہی بہترین انداز میں وکالت کی اور اتنے منظم انداز میں دلائل پیش کئے کہ جسٹس کرشنا ڈکشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ لیکن چونکہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں، جسٹس کرشنا ڈکشت نے معاملہ کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے چیف جسٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا اور خواہش ظاہر کی کہ اس معاملےپر ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ فیصلہ سنائے۔ اس تعلق سے چیف جسٹس نے فوری طور پر تین ججس پر مشتمل توسیعی بینچ کا اعلان کیا ہے جو کل جمعرات دوپہر کو حجاب معاملہ کی سماعت کرے گا۔
یاد ہو کہ اُڈپی اور کنداپور کالجس میں حجاب کے مقابلے میں سنگھ پریوار کی طرف سے طلبہ زعفرانی شال اوڑھ کر کالج پہنچے تھے جس پر تنازعہ اٹھنے کے بعد مسلم طالبات کو پہلے کلاس روم پھر کالج کیمپس سے ہی باہر کیا گیا تھا۔
عدالت میں کاروار سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیت دیودت کامتھ نے جب حجاب کے حق میں بحث شروع کی اور مضبوط دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا تو ان کا نام پورے کیس میں سب سے اُوپر آگیا حالانکہ اس کیس کی پیروی کے لئے مزید تین وکیل عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے طالبات کے موقف کو جس بہترین انداز میں رکھا کہ اس نے سب کا دل جیت لیا -
ایڈوکیٹ دیو دت کامت کاروار سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جنگ آزادی کے مجاہدین میں شامل ان کا خاندان بیلگاوی اور کاروار کرناٹک میں آباد رہا ہے ۔ ان کے دادا پی ایس کامت اپنے زمانے میں بامبے پراوینس لیجسلیٹیو اسمبلی کے رکن تھے ۔ دیو دت کامت کاروار کے مشہور وکیل ایس پی کامت کے واحد فرزند ہیں جو فی الحال سپریم کورٹ میں وکالت کرتے ہیں ۔ 2019 میں سپریم کورٹ نے دیو دت کامت کو سینئر ایڈوکیٹ کا درجہ دیا تھا
وکالت کے پیشہ میں دیو دت کامت ایک بہت ہی باصلاحیت اور قابل نوجوان وکیل کی حیثیت سے معروف ہیں ۔ 37 سال کی عمر میں ہی کرناٹک حکومت نے انہیں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نامزد کیا تھا اور اس حیثیت سے انہوں نے سپریم کورٹ میں ریاستی معاملات کو بہت ہی خوش اسلوبی سے اپنا کردار ادا کیا تھا ۔
دیو دت کامت سیاسی طور پر کانگریس پارٹی سے قریب ہیں ۔ کووڈ وبا کے زمانے میں انہوں نے کانگریسی لیڈروں اور کاروار کے سابق رکن اسمبلی ستیش سئیل کے ساتھ مل کر اس علاقہ میں ضرورت مندوں کو آکسیجن ، ایمبولینس سروس اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے میں سرگرمی دکھائی تھی ۔
کانگریسی رہنما سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کےساتھ ایڈوکیٹ دیودت کامت کے بہت قریبی تعلقات ہیں ۔ انہوں نے سال 2013 میں شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کے لئے کانگریسی امیدوار کے طور پر میدان میں آنے کا من بنایا تھا ۔ لیکن اس وقت کانگریس کے بہت ہی طاقتور لیڈر آر وی دیشپانڈے کی فرزند پرشانت دیشپانڈے کو کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا ۔ اس وجہ سے انہیں موقع نہیں ملا ۔ اب خبریں گرم ہیں کہ آئندہ جو پارلیمانی انتخاب ہونے جارہا ہے اس میں دیو دت کامت کانگریسی امیدوار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں ۔
خیال رہے کہ ابھی جو اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اس ضمن میں کانگریس پارٹی نے قانونی مسائل سے نپٹنے کے لئے جو لیگل کو آرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی ہے دیودت کامت کو اس کا چیرمین نامزد ہے ۔