وجئے پور، 16؍ فروری (ایس او نیوز) حجاب تنازعہ میں شہر وجئے پور کے سرکاری اردو اسکول نشانہ پر معلوم ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے چند نمائندے ہاتھ میں کیمرہ لئے ہر اسکول کا چکر کاٹ رہے ہیں اور کلاسس میں ہیڈماسٹر کی اجازت کے بغیر داخل ہو کر اساتذہ کرام اور طالبات کو شال اور حجاب پر جاری آرڈر پر سوالات کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
مقامی الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوب والوں کی جانب سے اس طرح کی شرارت کے سبب یہاں سرکاری اردو ہائر پرائمری اسکول میں جو شہر کے ایک اہم تجارتی مرکز سے متصل گورنمنٹ ہائی اسکول کے احاطہ میں واقع ہوئی ہے، اسکول شروع ہوتے ہی چند مقامی میڈیا کے نمائندوں نے کلاس میں داخل ہو کر چند طالبات جو سر پر دوپٹا پہنے دکھائی دیں تو اس کی ویڈیو گرافی کے متعلقہ کلاس ٹیچرس اور ہیڈ ماسٹر سے سوالات کرنے لگے کہ اس ضمن میں پابندی ریاستی حکومت کا آرڈر کے باوجود سر ڈھاپنے یا اسکارف کی اجازت کیوں دی گئی ۔ اسی طرح چند لیڈی ٹیچرس جو برقع پہنے دیکھی گئیں تو اس پر بھی اعتراض کئے جانے کے بعد متعلقہ لیڈی ٹیچرس کو مجبوراً برقع نکلانے کی نوبت پیش آئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ میڈیا والوں نے موقع پر ہی وجئے پور شہر رینج کے بی ای او ایم بی مورٹگی کو طلب کر لیا جو فوراً اس اسکول پہنچ کر میڈیا کی حمایت میں اتر گئے اور اسکارف پہنے طالبات اور برقع والی ٹیچرس کو وارننگ دی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک کوئی حجاب نہیں پہن سکتیں اور ہائی کورٹ کے آرڈر کا پالن کرنا ہوگا۔
شہر وجئے پور میں تمام اسکول اور کالجوں کے سامنے ایک ایک پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے اور جگہ جگہ پولیس کی موٹر گاڑیاں باقاعدہ پولیس فورس کے ساتھ دیکھے جارہے ہیں تو دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اور ایس پی معائنہ کررہے ہیں۔