ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حجاب اسلام کا لازمی جز۔عدالتوں کو مذہب کے عقائد وتعلیمات طئے کرنے کا نہیں ہے اختیار؛ گلبرگہ میں منعقدہ جلسہ عام میں علماء کا خطاب

حجاب اسلام کا لازمی جز۔عدالتوں کو مذہب کے عقائد وتعلیمات طئے کرنے کا نہیں ہے اختیار؛ گلبرگہ میں منعقدہ جلسہ عام میں علماء کا خطاب

Tue, 01 Mar 2022 20:06:10    S.O. News Service

  گلبرگہ، یکم مارچ(ایس او نیوز/موصولہ)حجاب جیسی عفیف و باعصمت شئے پرتنازعہ کھڑا کرنے پر علماء  کرام و دانشوران ملت نے کرناٹک حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علما ء  کا کہنا ہے کہ اسلام نے صنف نازک کو قیمتی ہیرے سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور اسکی حفاظت پر بھی زور دیا ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ میں حجاب کے موضوع پر جاری بحث کو بھی علماء و دانشوران ملت نے غیر ضروری قرار دیا۔دانشوران ملت نے سوال کیا کہ کیا عدالت کو کسی بھی مذہب کے لازمی جز طئے کرنے کا اختیار ہے ؟  کیا عدالتیں کسی بھی مذہب کی رسومات کو ضروری  قرار دینے کی مجاز ہیں ؟ 

 معروف قومی تنظیم وحدت اسلامی نے اس ضمن  میں "حجاب، قران و حدیث کی روشنی"کے عنوان پر میٹرو فنکشن ہال میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا۔ جس میں کئی ایک نامور علماء  سمیت  خاتون عالمہ نے خطاب کیا۔ علماء کرکرام نے بتایا کہ سورہ نور اور سورہ احزاب  سمیت کئی ایک مقامات پر حجاب کے تعلق سے ارشاد باری نازل ہوا ہے۔ صحیح مسلم شریف اور صحیح البخاری شریف کئی ایک احادیث حجاب کے تعلق سے موجود ہیں۔ علماء نے خطاب کے دوران کہا کہ وقت اور جغرافیائی تقاضوں کے پیش نظر اسلامی خواتین کے پردے کے طریقوں میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ بیس برس پہلے خواتین جس طرح کا برقعہ استعمال کرتی تھیں، وہ آج ندارد ہے، اگر  بیس برس سے پہلے کا بھی جائزہ لیا جائے تو اس وقت بھی برقعے کی شکل دوسری ہوا کرتی تھی تاہم مقصد ایک ہی تھا پورا جسم سر سے لے کر پاؤں تک ڈھانک لینا۔

علماء کرام  نے سورہ احزاب کی آیت نمبراٹھاون کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ"اے نبیﷺ، مومن عورتوں سے کہہ دیجئے    جب ہاہر نکلیں تو اپنے چہروں پر جلابی چادر اوڑھ لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے سورہ احزاب کی آیت نمبر اٹھاون  میں "جَلابی"کا ذکر کیا ہے۔ صحابی رسول حضرت عبد اللہ ابن عباس کے بقول جلباب یا جلابی اس چادر کو کہا جاتا ہے، جو اوپر سے لے کر نیچے تک پورے جسم کو چھپائے۔ لغت عرب میں بھی جلباب یا جلابی اس چادر کو کہا جاتا ہے جو کہ پورے جسم کو چھپالے نہ کہ وہ چادر جسم کے بعض حصوں کو چھپالے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سورہ نور کی آیت نمبر اکتیس کا بھی حوالہ دیا۔ جس میں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ  اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی آرائش یعنی  اپنے زیور پہننے کے مقامات کو  ظاہر نہ ہونے دیا کریں بجز اس کے کہ جو اس میں کھلا رہتاہوں۔

دانشوران ملت نے کہا کہ ایسے  ماحول میں اگر چیکہ  مسلم خواتین  اپنے حجاب سے دستبردار ہوتی ہیں تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔  اجلاس کی صدارت وحدت اسلامی کرناٹک و تلنگانہ کے نقیب جناب محمد الیاس مومن نے کی۔ مولانا جاوید عالم قاسمی، مولانا عبد الرحیم سگری، جناب عزیز اللہ سرمست، مفتی توصیف خان، مفتی محمد رکن الدین رحمانی، محترمہ حسنیٰ خیری، محترمہ نیلوفر جہاں نے خطاب کیا۔ اجلاس میں خواتین و مرد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


Share: