نئی دہلی 28جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) جنوبی بھارت فلموں کی مشہور اداکارہ نے بدھ کو ملیالم فلم آرٹسٹ یونین سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ان اداکارائیں کے ساتھ گزشتہ سال چلتی گاڑی میں جنسی استحصال کیا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ نے الزام لگایا تھا کہ متعلقہ ادارے نے اس کی کوئی مدد نہیں کی تھی۔ خاص بات یہ کہ اس پورے معاملے میں بدھ کو متاثرہ کے ساتھ اس ادارے میں کام کرنے والی تین اور اداکارائیں نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر الزام کو تقویت پہنچانے کا کام کیا ہے ۔ تمام اداکارائیں نے وومین ان سینماکے نام سے چلائے جا رہے فیس بک پیج پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اے ایم ایم اے نے حال ہی میں اپنی ایک میٹنگ کے بعد معاملے میں ملزم اداکار دلیپ کو تنظیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اداکارہ نے فیس بک پر کہا کہ انہوں نے اے ایم ایم اے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے تنظیم کے ملزم اداکار کی حمایت کرنے کے فیصلے کے بعد نہیں بلکہ اے ایم ایم اے کے ساتھ ناخوشگوار تجربات کے باعث لیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اداکارہ نے الزام لگایا تھا کہ تامل اور تیلگو فلموں میں کام کر چکے اداکار نے ان کا اغوا کیا اور کار میں دو گھنٹے تک ان کا جنسی استحصال کیا تھا ۔معاملہ 17 فروری 2017 کا ہے ۔ غور طلب ہے کہ کچھ وقت پہلے ہی رادھکا آپٹے نے بالی ووڈ میں بھی کام کے لئے جنسی استحصال کرنے کا انکشاف کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ صرف خواتین نہیں، مردوں کو بھی’ جنسی استحصال‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں خاص طور پر فلمی دنیا کی بات کر رہی ہوں۔ میں ایسے بہت سے مردوں کو جانتی ہوں جو اس کا’ شکار‘ ہوئے ہیں۔