ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جناح کا فوٹو تو بہانہ تھا سابق نائب صدر جمہوریہ نشانے پر تھے: تنویر عالم

جناح کا فوٹو تو بہانہ تھا سابق نائب صدر جمہوریہ نشانے پر تھے: تنویر عالم

Sat, 05 May 2018 12:45:56    S.O. News Service

نئی دہلی4مئی (ایس او نیوز؍یو این آئی )اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن آف مہاراشٹر کے صدر اور مشہور سماجی کارکن تنویر عالم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حالیہ تشدد کو گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسٹوڈینٹ یونین ہال میں موجود محمد جناح کے فوٹو کو بہانہ بنایاگیا ہے ان ہندو تنظیموں کا اصل نشانہ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری تھے۔

انہوں نے آج یہاں جاری بیان میں الزام لگایا کہ جان بوجھ کرتعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان غنڈوں نے اپنی شروعات حیدرآباد یونیورسٹی کی اور پھر جے این یو کو نشانہ بنایا یہاں تک جے این یو کو غداروں اور دہشت گردوں کا اڈہ تک قرار دے دیاگیا۔ جھوٹے ویڈیو وائرل کرکے کچھ طلبہ کو پھنسانے کی کوشش کی گئی اور آج تک پولیس اس کو ثابت نہیں کرسکی ہے لیکن جے این یو کو تو بدنام کردیاگیا۔ 

انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہا ہے اور ایک خاص نظریات کے حامل لوگوں کو یہ یونیورسٹی ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ اس لئے چھوٹے موٹے واقعات اور رائی کو پہاڑ بناکر یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 مئی کو جس طرح کے افسوسناک واقعات پیش آئے اور ہندو یوا واہنی کو جس طرح تشدد برپا کرنے کی اجازت دی گئی اس کی نظیر نہیں ملتی۔

انہوں نے ضلع اور پولیس انتظامیہ کو اس واقعہ کے لئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ جب انتظامیہ کو معلوم تھا کہ سابق نائب صدر جمہوریہ وہاں سے سو میٹر کی دوری پر قیام پذیر ہیں تو ان غنڈوں کو اس طرح کی حرکت کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ شواہد اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان غنڈوں کا نشانہ حامد انصاری تھے اور اگر طلبہ نے آگے بڑھ کر روکا نہ ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ حامد انصاری کے ساتھ کوئی انہونی ہوسکتی تھی۔ واضح رہے کہ حامد انصاری فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ محمد علی جناح ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ کا اٹوٹ حصہ ہیں اور جب ملک کی آزادی، لال قلعہ مقدمہ، دیگر مقدمے اور ملک کی تقسیم کی بات آئے گی تو محمد علی جناح کا نام ضرور آئے گا۔ اگر کسی کو اس کے فوٹو پر اعتراض تھا تو قانون کا سہارا لیتے لیکن قانون کی دھجیاں اڑاکر جس طرح یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کیا گیا جس میں طلبہ یونین لیڈر سمیت ایک درجن سے زائد سینر طلبہ زخمی ہوگئے ، ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے غنڈوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے علیگ برادری، طلبہ اور علی گڑھ کے بہی خواہوں سے اپیل کی کہ وہ اس نازک صورت حال میں دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاملے کو طول نہ دیں اور اس پر غور و خوض کریں گے اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہم فرقہ پرستوں کے جال میں پھنس کر اپنی طاقتوں کو برباد کریں گے۔


Share: