نئی دہلی،20؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 100 کمپنیوں کو فوراً واپس بلانے کا حکم جاری کیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے سرکاری حکم نامے کے مطابق جموں و کشمیر میں سی آر پی ایف کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق سی آر پی ایف کی 40 کمپنیوں، سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف)، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی) کی 20-20 کمپنیوں کو واپس بلایا جائے گا۔ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو بے اثر کرنے کے بعد پہلی بار بڑی تعداد میں نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔
سی آر پی ایف کی 100 کمپنیوں کو فوراً واپس بلانے اور انھیں واپس ان کے سابقہ مقامات پر واپس لوٹنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ سی آر پی ایف کی ایک کمپنی میں 100 جوان ہوتے ہیں۔ اس حکم کے مطابق جموں و کشمیر سے سی آر پی ایف کے 10 ہزار جوانوں کی واپسی ہوگی۔
مرکزی وازرت داخلہ نے اس سے پہلے مئی میں جموں و کشمیر سے سی آر پی ایف کی 10 کمپنیوں کو واپس بلایا تھا۔ غور طلب ہے کہ ٹھیک ایک سال پہلے پانچ اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی آئین کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو بے اثر کرنے کا اعلان کیا تھا۔