نئی دہلی،17؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق مرکزی وزیر جسونت سنگھ کے بیٹے اور ممبر اسمبلی مانوندر سنگھ بدھ کو کانگریس میں شامل ہو گئے۔پارٹی کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل اشوک گہلوت، راجستھان کے انچارج اویناش پانڈے، پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سچن پائلٹ اور سابق مرکزی وزیر جتندر سنگھ کی موجودگی میں مانوندر سنگھ نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔راجستھان کے باڑ میر علاقے میں نام پیدا کرنے والے مانوندر سنگھ کے علاوہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے رکن اسمبلی رہے اشیش دیشمکھ بھی کانگریس میں شامل ہوئے۔ دیشمکھ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر رنجیت دیشمکھ کے بیٹے ہیں۔کانگریس میں شامل ہونے سے پہلے سنگھ نے پارٹی صدر راہل گاندھی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔دونوں لیڈروں کا کانگریس میں استقبال کرتے ہوئے گہلوت نے کہاکہ مانوندر سنگھ اور اشیش دیشمکھ بی جے پی چھوڑ کر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ملک میں صرف دو لوگوں(امت شاہ اور نریندر مودی )کی حکومت چل رہی ہے۔بی جے پی میں لوگ پریشان ہیں۔بی جے پی کے بہت سارے لیڈر کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔گہلوت نے الزام لگایا کہ جسونت سنگھ کی بی جے پی نے توہین کی ہے۔انہوں نے کہاکہ جسونت سنگھ ملک کے وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ رہے۔وہ بی جے پی میں وزیر اعظم کے عہدے کے قابل تھے، لیکن ان کا ٹکٹ کاٹ دیا گیا۔ان کی توہین کی گئی۔مانوندر سنگھ نے کہاکہ میں نے راہل گاندھی سے صبح ملاقات کی اور انہوں نے میرا کانگریس میں خیر مقدم کیا۔میرے ساتھ بہت سے لوگ طویل مدت سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔آپ دیکھیں گے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات اور پھر لوک سبھا انتخابات میں راجستھان کے اندر بڑے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔اشیش دیشمکھ نے کہاکہ رافیل معاملے کو راہل گاندھی جی اٹھا رہے ہیں۔یہ بدعنوانی کا بڑا معاملہ ہے۔ملک کے کونے کونے تک اس مسئلے کو لے جائیں گے۔اب نریندر (مودی) کے ساتھ دیویندر (فڑنویس) کو بھی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔