برلن 23مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )جرمنی کی ایک عدالت نے پناہ کے متلاشی ایک نوجوان کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس پر الزام ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے سن دو ہزار چھ میں ایک نو عمر جرمن لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے قتل کر دیا۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فرائی برگ کی ایک عدالت نے جمعرات کے دن حسین نامی پناہ کے ایک متلاشی تارک وطن کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت میں اس پر جرم ثابت ہو گیا تھا کہ وہ سن دو ہزار سولہ میں ایک جرمنی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کا مرتکب ہوا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق اس جرم کی پاداش میں اسے سخت ترین سزا سنائی گئی ہے۔ جب جج نے یہ فیصلہ سنایا گیا تو کمرہ عدالت میں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر اس عدالتی حکم کا خیر مقدم کیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت بھی ہے۔اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد جرمنی میں تارکین وطن اور مہاجرین کی آمد پر ایک بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس لیے مہاجرین کے بحران میں اس کیس کا ملکی سطح پر غیر معمولی اہمیت بھی دی گئی۔عدالت نے متاثرہ لڑکی کا نام ماریہ ایل بتایا ہے، جس کی عمر انیس برس تھی۔ بتایا گیا ہے کہ حسین نے اس زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس لڑکی کو دریائے درائیسام میں دھکا دے دیا تھا۔ماریہ کی لاش اسی دریا کے کنارے سے ملی تھی۔ حسنن نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے بے تحاشا شراپ پینے اور غیر قانونی نشہ آور سگریٹ پینے کے بعد یہ کارروائی سر انجام دی تھی۔حسین نے بتایا کہ نشے کی حالت میں اس نے سائیکل پر سوار ماریہ پر حملہ کیا۔ اس نے پہلے ماریہ کا ریپ کیا اور بعد ازاں اسکارف کی مدد سے اس کا دم گھوٹا اور پھر دریا میں پھینک دیا۔ جج کیتھرین شینک نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حسین کو معلوم تھا کہ جب اس نے ماریہ کو دریا میں دھکا دیا گیا تھا، وہ زندہ تھی اور وہ ڈوب جائے گی۔حسین کی عمر اور قومیت کے بارے میں ابھی تک واضح معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ اپنے ابتدائی بیان میں اس نے کہا تھا کہ اس کی عمر سترہ برس ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ تاہم بعد ازاں حسین نے کہا کہ اس نے استغاثہ کے ساتھ جھوٹ بولا تھا۔ متعدد طبی جائزوں کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جرم کو سرزد کرتے وقت حسین کی عمر کم ازکم بائیس برس تھی۔