حیدرآباد،31اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) تلنگانہ میں ڈینگو کے قہر سے ایک خاندان مکمل طور ختم ہو گیا۔خاندان میں اب صرف ایک نوزائیدہ بچہ بچا ہے،بچے کی ماں، باپ، بہن اور پردادا سب کی ڈینگو کی وجہ سے موت ہو چکی ہے۔معلومات کے مطابق تلنگانہ کے منچییریل ضلع میں رہنے والا یہ خاندان 15 دنوں کے اندر اندر ختم ہو گیا۔بدھ کو اسی خاندان کی 28 سالہ خاتون کی بچے کو جنم دینے کے بعد ہسپتال میں موت ہو گئی۔خاندان میں سب سے پہلے سونی کے شوہر جی راج گٹو (30 سال) کو ڈینگو ہوا تھا،راج گٹو ایک استاد تھے اور منچیریل ضلع کے شریشری شہر میں رہتے تھے۔ڈینگو کا پتہ چلتے ہی یہ لوگ کریم نگر میں شفٹ ہو گئے تھے،پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے دوران 16 اکتوبر کو ان کی موت ہو گئی۔اس کے بعد راج گٹو کے 70 سالہ دادا لگائی کو ڈینگو نے اپنی گرفت میں جکڑ لیا اور 20 اکتوبر کو خاندان کے دوسرے رکن کی موت ہو گئی۔خاندان اب مسلسل ہوئی دو اموات کے دکھ سے نکل بھی نہیں پایا تھا راج گٹو کی 6 سالہ بیٹی وررشنی کو بھی ڈینگو ہو گیا،علاج کے دوران دیوالی والے دن 27 اکتوبر کو ورشنی کی بھی موت ہو گئی۔اس دوران راج گٹو کی بیوی سونی حاملہ تھی اور خاندان میں ہوئی ان تین اموات سے وہ بری طرح غمگین تھی لیکن آخر کار مچھر سے پیدا ہونے والی اس وائرل بیماری نے اسے بھی جکڑ لیا،جس کے بعد سونی کو حیدرآباد کے ایک نجی ہسپتال میں بہتر علاج کے لئے داخل کیا گیا۔منگل کو 28 سال کی سونی نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا،جس کے بعد بدھ (30 اکتوبر) کو ہسپتال میں سونی کی موت ہو گئی۔15 دنوں کے وقفے میں پورے خاندان کے ختم ہو جانے کے اس دل ٹکڑے کردنے والے واقعہ نے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔غور طلب ہے کہ پہلے ہی تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو خبردار کیا تھا اور ریاست میں ڈینگو کے خطرے کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کرنے کو کہا تھا۔