ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تارکین وطن کو بحری جہاز پر روک دیا جائے، آسٹریا اور اٹلی

تارکین وطن کو بحری جہاز پر روک دیا جائے، آسٹریا اور اٹلی

Mon, 17 Sep 2018 13:03:53    S.O. News Service

لندن/ برلن17ستمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اٹلی اور آسٹریا کے وزرائے داخلہ نے بحیرہ روم سے بازیاب کیے گئے مہاجرین کو بحری جہازوں پر روکنے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ اس تجویز کے مطابق ان مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد تک بحری جہازوں میں رکھا جائے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں یورپی یونین اور افریقی ممالک کے درمیان جمعہ کو ہونے والے ایک اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ ’یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کو بحیرہ روم میں عارضی طور پر بحری جہازوں میں رکھا جائے۔‘ مہاجرت سے منسلک مسائل پر مبنی اس اجلاس میں آسٹریا اور اٹلی کی جانب سے اس تجویز کی حمایت کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں مزید الجزائر، چاڈ، مراکش، نائیجر، مالی اور تیونس کے نمائندے بھی موجود تھے۔آسٹریا کے وزیر داخلہ ہیربرٹ کیکل نے اٹلی کے وزیر داخلہ ماتیو سالوینی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’یورپ کی بحری حدود میں داخل ہونے والے مہاجرین کو بحری جہاز کے ذریعے ہی بازیاب کروایا جاتا ہے، لہٰذا ان بحری جہازوں پر قیام کے دوران ہی پناہ کے مستحق مہاجرین کے کوائف کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے۔‘ کیکل کا مزید کہنا تھا کہ جہاز پر ان مہاجرین کا بہتر خیال رکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں پناہ کی درخواست کا چند روز میں نتیجہ آنے کے بعد ایسے مہاجرین کو واپس بھیج دیا جائے جن کی درخواست مسترد کی جا چکی ہے۔ سن 2016 میں ترکی سے یونان پہنچنے کے راستے کو بند کیے جانے کے بعد سے مہاجرین بحیرہ روم سے اٹلی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ نئی اطالوی حکومت کی جانب سے اس سلسلے کو روکنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ دوسری جانب آسٹریا کی قدامت پسند حکومت مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت پر زور دے رہی ہے۔ ویانا میں منعقد اس اجلاس میں مہاجرین کی پالیسی کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک کے درمیان شدید اختلافات دیکھنے میں آ ئے ہیں۔ ہسپانوی وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈ مارلاسکا اور یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمترس افراموپولوس نے صحافیوں کو بتایا کہ افریقی ممالک کے فریقین نے اس تجویز پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا۔ ہسپانوی وزیر داخلہ مارلاسکا کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی تجویز کو قبول کرنا بہت مشکل ہے، ہمیں ان ممالک کے وقار کا احترام کرنا چاہیے۔
 


Share: