ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بین الاقوامی معیشت دوبارہ بحران کا شکار ہوسکتی ہے

بین الاقوامی معیشت دوبارہ بحران کا شکار ہوسکتی ہے

Thu, 08 Oct 2020 23:09:58    S.O. News Service

واشنگٹن،8؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو جو اب نسبتاً کم خطرے میں ہے، کورونا وائرس پر قابو پانے اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کے قرض سے نمٹنے میں ناکامی، دوبارہ بحران سے دوچار کر سکتی ہے اگر حکومتوں نے دستیاب مالی امداد بہت جلد ختم کردیں۔آئی ایم ایف کی سربراہ اور اگزیکٹیو ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ عالمی معیشت جون کی نسبت کم لیکن اب بھی خطرے میں ہے اور  یہ تباہی ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ اس وقت حالات بہتر نظر آرہے ہیں لیکن ہوئے نہیں ہیں۔ معیشتوں پر خطرات کے بادل اب بھی برقرار ہیں جنہیں ہٹانے کے لئے طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہو گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک بحالی کے ایک طویل  راستے سے گزر رہے ہیں۔ یہ ایک مشکل چڑھائی والا راستہ ہے جو ناہموار بھی ہے اور اس میں  غیر یقینی حالات میں نقصان کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

کرسٹالینا جارجیوا نے لندن اسکول آف اکنامکس کے ایک آن لائن پروگرام کو بتایا کہ آئی ایم ایف آئندہ ہفتے اپنی عالمی اقتصادی پیش گوئی کرے گا۔ ممبر ممالک اس آن لائن ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس  وقت مثبت پہلو بس یہ ہے کہ عالمی معیشت درپیش بحران کی گہرائی سے باہر نکل رہی ہے، باوجودیکہ  یہ تباہی ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے خرچ میں کمی نہ کریں بلکہ معیشت کو سہارا دینے کے اقدامات جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف2021 ء میں ’جزوی اور غیر مساوی‘ بحالی کی پیش گوئی کر رہا ہے۔آئی ایم ایف نے جون میں پیش گوئی کی تھی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے شٹ ڈاؤن سے عالمی مجموعی پیداوار میں9.4؍  فیصد کمی واقع ہوگی جو1930ء کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سے اب تک کی سب سے تیز کمی ہے۔کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ12؍کھرب ڈالر کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ چند غیرمعمولی مالیاتی آسانیوں سے کئی بڑی معیشتوں بشمول امریکہ  اور یورو زون کو وبا سے نکلنے میں مدد ملی ہے ۔

 آئی ایم ایف کی چیف نے دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے غریب طبقات کےلئے کئے جانے والے مالیاتی اقدامات کی تعریف بھی کی اور کہا کہ عالمی طور پر 12؍ ٹریلین ڈالرس  مختلف ممالک کی جانب سے اپنے غریب عوام کی مدد کے لئے خرچ کئے گئے جس سے معیشتیں برقرار رہیں۔ ان میں کچھ گراوٹ آئی ہے لیکن امید ہے کہ وہ ریکور ہو جائیںگی۔ کرسٹالینا نے تمام حکومتوںسے کہا ہے کہ وہ یہ اقدامات فی الحال جاری رکھیں کیوں کہ اس وقت بھی معاشی طور پر حالات بہت بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے عوام کی فکر کریں اور انہیں معاشی طور پر سہارا دیں۔

آئی ایم ایف چیف نے اور کیا کہا ؟ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی چیف کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق  غریب ممالک میں کورونا اور لاک ڈائون کا اثر اتنا زیادہ ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پوری ایک جنریشن اس کی نذر ہو جائے گی جو 1930ء کے بعد دنیا کا سب سے بڑا بحران ہو گا۔ 

یہ غریب ممالک قرض کے بوجھ تلے دب جائیں گے جس کی وجہ سے ان ممالک میں بھکمری اور قحط عام ہو سکتا ہے۔ اسی لئے امیر ممالک سے ہماری درخواست ہے کہ وہ ان ممالک کا بھی دھیان رکھیں۔ 

کرسٹا لینا نے تمام حکومتوں پر زور دیا کہ عالمی وباء کے ختم ہونے کے بعد بھی ہم موجودہ معاشی نظام کے تحت نہیں رہ سکتے بلکہ ہمیں گرین زون جابس کو فروغ دینےکی کوشش کرنی ہو گی ۔ اس سے ماحول بھی بہتر ہو گا اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔ انہوں نے دنیا کی تمام معیشتوں سے اپیل کی کہ وہ گرین زون جابس کے سلسلے میں  اقدامات پر ابھی سے کام شروع کردیں۔ 


Share: