ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیلگاوی کے کنٹراکٹر نے کی اڈپی میں خودکشی - ایشورپّا کو ٹھہرایا انتہائی اقدام کے لئے ذمہ دار

بیلگاوی کے کنٹراکٹر نے کی اڈپی میں خودکشی - ایشورپّا کو ٹھہرایا انتہائی اقدام کے لئے ذمہ دار

Tue, 12 Apr 2022 23:21:45    S.O. News Service

 اڈپی 12/ اپریل (ایس او نیوز) سبھاش روڈ پر کے ایس آر ٹی سی بس اسٹینڈ کے قریب واقع شامبھوی لاڈج میں سنتوش پاٹل نامی ٹھیکیدار نے زہر کھا کر خود کشی کرلی ۔ اس نے خود کشی سے پہلے جو نوٹ لکھا ہے اس میں اپنے اس انتہائی اقدام کے لئے رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج منسٹر ایشورپّا کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ مہلوک سنتوش پاٹل بیلگاوی کا رہنے والا تھا ۔ وہ ایک کنٹراکٹر ہونے کے علاوہ بی جے پی کا لیڈر بھی تھا ۔ وہ اپنے گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا ۔ اس کے موبائل فون کو آج اڈپی میں ٹریک کیا گیا ۔ اس نے ریاستی وزیر ایشورپّا کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرانے والا اپنا ڈیتھ نوٹ والا میسیج میڈیا والوں بھی روانہ کیا تھا ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لاڈج کے جس کمرہ نمبر 207 میں سنتوش نے خودکشی کی ہے اس کے بازو والے کمرے میں ہی سنتوش کے دو دوست ٹھہرے تھے ۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سنتوش پاٹل نے رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج منسٹر ایشورپّا پر بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے اور وزیر اعظم نریندرا مودی کو خط لکھ کر بتایا تھا کہ اس نے ایشورپّا کی زبانی ہدایات پر اپنے گاوں میں سڑکوں کی تعمیر پر 4 کروڑ روپے کا سرمایہ لگایا تھا ۔ اس نے وزیر ایشورپّا پر جھوٹ ، بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم سے مانگ کی تھی کہ وہ ایشورپّا کو بِلس ادا کرنے کی ہدایت دیں ۔

ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنو وردھن نے بتایا کہ :" سنتوش نے زہر کھا کر خود کشی کی ہے ۔ اس کے کمرے کو سیل کردیا گیا ہے ۔ فارنسک جانچ کے لئے ٹیم پہنچ رہی ہے ۔ ہم سنتوش کے دو دوستوں سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں ۔ مزید تحقیقات جاری ہے ۔"

کانگریس ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے مطالبہ کیا ہے کہ سنتوش نے چونکہ اپنی خود کشی کے لئے واضح طور پر ایشورپّا کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اس لئے وزیر اعلیٰ بومئی کو چاہیے کہ اسے قتل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ایشورپّا کو وزارت سے برخاست کردیں ۔ اور دفعہ 302 کے تحت مقدمہ دائر کرکے انہیں گرفتار کر لیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ کنراکٹرس ایسو سی ایشن نے ایشورپّا پر 40 فی صد کمیشن طلب کرنے جیسا سنگین الزام لگایا تھا اور براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس تحریری شکایت کی تھی ۔ یہ سنگین الزامات اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے نہیں بلکہ کنٹراکٹرس ایسوسی ایشن کی طرف سے لگائے گئے ہیں ۔ اس سے پہلے حکومت نے ایشورپّا کو تحفظ دینے کے لئے ان الزامات کے تعلق سے 'بی' رپورٹ داخل کر چکی ہے ۔

اسی دوران کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا اور سدا رامیا نے بھی وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایشورپّا کو کابینہ سے فوراً ہٹا دیا جائے ۔ ادھر منگلورو کے ایک پرائیویٹ ہوٹل میں اخبار نویسوں سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ بومئی نے بتایا کہ سنتوش پاٹل کی خودکشی کے سلسلے میں ابتدائی رپورٹ ملتے ہی اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ اس معاملہ کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات ہوگی ۔پولیس آزادانہ تفتیش کرے گی ۔ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی ۔ اس کے علاوہ ڈیتھ نوٹ کی اصلیت کے بارے میں بھی تحقیقات ہوگی ۔

اپوزیشن کی طرف سے اس معاملہ میں ایشورپّا کو گرفتار کرکے تفتیش کرنے اور وزیر اعلیٰ بومئی کے استعفیٰ کا جو مطالبہ کیا جارہا ہے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بومئی نے پوچھا :" ان کے دور اقتدار میں ایک آفیسر نے خود کشی کی تھی ، کیا سدا رامیا نے استعفیٰ دیا تھا ؟ چونکہ ہم اس معاملہ کا منظر جانتے ہیں اس لئے کیس کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں ۔" وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ :" ایشورپّا ہماری کابینہ کے وزیر ہیں ۔ میں ان سے ذاتی طور پر بات کر سکتا ہوں ۔ مگر اس سے قبل پولیس افسران کو ہدایت دی ہے کہ فارنسک رپورٹ سمیت اس کیس کی مکمل تفتیش کی جائے ۔ ایشورپّا نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان الزامات کے خلاف انہوں نے ہتک عزت کا معاملہ درج کروایا ہے ۔ ایک پریس میٹ میں سنتوش نے جو الزامات لگائے تھے اس پر انہوں نے ایک چینل کے خلاف بھی کیس دائر کیا ہے ۔ سنتوش نے اپنے الزامات کے ثبوت میں حکومت کو کسی قسم کے دستاویزات نہیں دئے تھے ۔ ان سارے پہلووں کی پوری طرح تحقیق کی جائے گی ۔"


Share: