ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیدر میں معززین شہر اور آن لائن جلسہ بعنوان ”غیر شرعی تقریبات اور اس کا حکم“مولانا ایوب بھٹکلی ندوی کا خطاب

بیدر میں معززین شہر اور آن لائن جلسہ بعنوان ”غیر شرعی تقریبات اور اس کا حکم“مولانا ایوب بھٹکلی ندوی کا خطاب

Thu, 09 Dec 2021 23:08:30    S.O. News Service

  بیدر۔9/دسمبر۔(محمد امین نواز/ایس او نیوز)اصلاحِ معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ شاخ بیدر (اڈھاک) کی جانب سے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن بیدر کے العزیز آڈیوٹیوریم میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے معززین ِ شہر اور آن لائن راست جلسہ ”بعنوان غیر شرعی تقریبات اور اس کا حکم“ منعقد ہوا۔

 ملک کے معروف عالمِ دین حضرت مولانا ایوب برماور بھٹکلی ندوی، صدر جمعیۃ السنۃ الخیریۃ بھٹکل، بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے مذکورہ بالا عنوان پر خطاب میں حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تم  میں سے کوئی بھی  برائی کو دیکھے تو ہاتھ سے روکے‘ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے‘زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے اُس کو برا سمجھے۔مولانا نے تربیت کو اپنا موضوع بنانے عوام سے تاکید کی اور کہا کہتربیت کے تین ارکان ہیں۔ پہلاخود کو نمونہ  بننا ہے، دوسراہر اچھائی کی تعریف کرنا ہےاور تیسرا ہر خامی اوربرائی پر روک ٹوک کرنا ہے۔ہمارے معاشرے میں کچھ خوبیوں کے ساتھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں خامیوں کو کم کرنا ہے۔اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کی صحیح و تعلیم و تربیت قُرآن و حدیث کی روشنی میں کریں۔اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔

مولانا محترم نے کہا کہ شادی کی غیر شرعی خرافات کا ایک نقصان وقت کے ضیاع کی شکل میں ہورہا ہے، وقت انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، زندگی کا ہر لمحہ بیش قیمت متاع ہے، اسی سے دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت بھی سنورتی ہے، اسی کی قدردانی سے قوموں کا مستقبل روشن ہوتا ہے اور ناقدری سے نسلیں برباد ہوتی ہیں۔نکاح اور شادی میں رائج خرافات کا ایک دینی نقصان یہ ہے کہ ان سے بے حیائی، بداخلاقی اور بے پردگی عام ہورہی ہے، نکاح ایک مقدس تقریب ہے اور سنت ِرسول ہے اسے ہر قسم کی خلاف ِشرع باتوں سے پاک ہونا چاہیئے۔شادی بیاہ کی خرافات کا ایک نقصان فضول خرچی اور اسراف ہے، نمائش اور دکھاوے کے لیے لوگ نکاح کی دعوتوں میں لاکھوں روپئے لٹاتے ہیں، لاکھوں کے شادی خانے حاصل کیے جارہے ہیں اور کھانے میں دسیوں آئٹموں کا اہتمام کیا جارہا ہے، پرشکوہ تقاریب کو سماج میں عزت اور انا کا مسئلہ بنالیا گیا ہے،جب کہ اسلام میں شادی کو سادی بنانے کا حکم ہے۔ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور مرد و خواتین کو بتائیں کہ اسلام میں غیروں سے مشابہت کی سخت ممانعت ہے، حتی کہ جو شخص کسی دوسری قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے کل قیامت کے دن اس کا حشر اسی قوم کے ساتھ ہوگا، شادی بیاہ میں رائج ساری خرافات در اصل غیر مسلم سماج سے مسلمانوں میں آئی ہیں،سالگرہ‘  جمعہ کی چوتھی‘ہلدی مہندی‘ جہیز اور دیگر رسومات غیر مسلم معاشرہ کی دین ہے، عام مسلمانوں کو بتایا جائے کہ اسلام میں غیروں سے مشابہت کی قطعی اجازت نہیں ہے۔

پروگرام کا آغاز قراء تِ کلام پاک سے ہوا‘مولانا مونس کرمانی صاحب صدر صفا بیت المال بیدر نے استقبالیہ خطاب کیا‘ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں اس طرح کے پروگرام کے انعقاد پر زودر دے کر کہا کہ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ غیر شرعی تقریبات اور فضول خرچی و بیجا رسومات کو روکا جائے تاکہ ہماری نسلوں کو  تباہی اور جہنم کے ایندھن بننے سے روک سکے۔مولانا محترم کی آمد پر ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے شاہین ادارہ جات بیدر کی جانب سے اِظہار تشکر کرتے ہوئے نہایت ہی مسرت کا اِظہار کیا۔اس موقع پر جناب محمد معظم صاحب جنرل سکریٹری رابطہ ملت بیدر‘محمد اکرم علی ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند بیدر موجود تھے۔


Share: