ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کو بالاخر پوار کے آگے ٹیکنے پڑے گھٹنے ، فڑنویس نے دیا استعفیٰ، اُدھو ٹھاکرے ہوں گے مہاراشٹرا کے نئے وزیراعلیٰ

بی جے پی کو بالاخر پوار کے آگے ٹیکنے پڑے گھٹنے ، فڑنویس نے دیا استعفیٰ، اُدھو ٹھاکرے ہوں گے مہاراشٹرا کے نئے وزیراعلیٰ

Tue, 26 Nov 2019 20:32:14    S.O. News Service

ممبئی 26/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی): مہاراشٹرا میں بالاخر بی جے پی کو  شرد پوار کے آگے اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور  وزیر اعلیٰ فڑنویس کو   حلف اٹھانے کے صرف تین دن بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 

 سپریم کورٹ نے آج منگل صبح بی جے پی کو حکم دیا تھا کہ وہ کل  بدھ کو فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرے،  لیکن فڑنویس  نے اس کا انتظار کیے بغیر ہی عہدہ چھوڑ دیا۔یاد رہے کہ  وزیراعلیٰ کے استعفیٰ سے کچھ گھنٹوں پہلے  ہی   نائب وزیر اعلی اجیت پوار  نے بھی   استعفی دے دیا تھا۔

بتایا جارہا ہے کہ  دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار کو معلوم ہوگیا تھا  کہ وہ فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کر سکیں گے  اسی وجہ سے ان دونوں کو  اپنے  عہدوں سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ادھو ٹھاکرے کے نام پر مہر، جمعرات کو حلف برداری:   ادھو  ٹھاکرے کو شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کے اتحاد (مہا وکاس اگھاڈی) کا قائد منتخب کر لیا گیا ہے۔ اتحاد کے قائد کی حیثیت سے تمام اراکین اسمبلی نے ادھو ٹھاکرے کے نام کی تائید کی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے نئے وزیر اعلی ہوں گے۔

ادھو ٹھاکرے کے قائد منتخب ہونے کے بعد این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ تینوں پارٹیوں کے اتحاد کے تین نمائندے آج گورنر سے ملاقات کریں گے۔ 

خبر ملی ہے کہ ادھو ٹھاکرے کے ماتحت مخلوط حکومت جمعرات 28 نومبر کو شام پانچ بجے شیواجی پارک میں حلف لے  گی۔

تین دن بعد  ڈرامہ ختم:   مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج منگل کے روز گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو اپنا استعفی سونپ دیا، جس کے ساتھ ہی  مہاراشٹرا کی سیاست میں 80 گھنٹے تک چلے ڈرامہ کا اختتام ہو گیا۔ 

خیال رہے کہ مہاراشٹر میں ہفتہ (23 نومبر) کی صبح آٹھ بجے بی جے پی کی قانون ساز پارٹی کے لیڈر دیویندر فڑنویس کو گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے راج بھون میں اچانک حلف دلا کر ملک کے عوام  کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس غیر متوقع پیشرفت میں فڑنویس کے ہمراہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر اجیت پوار بھی تھے جنہوں نے اپنے چچا شرد پوار سے بغاوت کر کے نائب وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لیا تھا۔  جیسے ہی حلف برداری کی خبر این سی پی، شیو سینا اور کانگریس خیمہ تک پہنچی یہ تینوں جماعتیں حرکت میں آ گئیں۔ آناً فاناً این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ اس حکومت کو نہ تو این سی پی کی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی ان کی! اس کے بعد تینوں جماعتوں نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ نئی حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے ہفتہ کے روز سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر دی گئی اور تاریخی طور پر سپریم کورٹ نے اتوار کے روز سماعت کی۔ سماعت کے دوران دونوں فریقوں نے عدالت میں اپنے اپنے دلائل پیش کیے اور معاملہ کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

 پیر کے روز سپریم کورٹ میں  اس معاملے پر گرماگرم بحث ہوئی۔ معاملہ کی سماعت جسٹس این وی رمنا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ نے کی۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا معاملہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں تو پورا اصطبل   ہی خالی ہے۔ اس پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے جواب دیا کہ ، ’’اصطبل تو اب بھی موجود ہے لیکن جاکی یعنی مرکزی گھوڑسوار فرار ہو گیا ہے۔‘‘ عرضی پر 80 منٹ کی سماعت کے بعد تین رکنی بنچ نے کہا کہ حتمی فیصلہ منگل کی صبح سنایا جائے گا۔

خاموشی کے بعد اجیت پوار کے ٹویٹس، تذبذب کی صورتحال: نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اجیت پوار نے خاموشی اختیار کر لی تھی لیکن اتوار کی شام 4 بجے اچانک وہ ٹویٹر پر متحرک ہوئے اور یکے بعد دیگرے 22 ٹویٹ کر ڈالے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع کی مبارکباد کا جواب دیا اور مہاراشٹر میں پانچ سالہ مستحکم حکومت کا وعدہ کیا۔ تاہم، اجیت پوار نے یہ بھی کہا کہ وہ این سی پی میں ہی ہیں اور اسی جماعت کا حصہ بنے رہیں گے۔ یہاں تک کہ انہوں نے شرد پوار کو ہی اپنا قائدبھی قرار دیا۔

نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے ٹویٹ کے بعد تذ بذب کی صورت حال پیدا ہو گئی اور لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ این سی پی نئی حکومت کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں! لیکن یہ صورت حال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی کیوں کہ شرد پواربھی جلد ہی  ٹویٹر پر نمودار ہو گئے اور  صاف کر دیا کہ اجیت پوار لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور این سی پی نے متفقہ طور پر شیو سینا اور کانگریس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگریس ، این سی پی اور شیوسینا کی پریڈ سے بی جے پی سکتہ میں آگئی:  پیر  کی شام ممبئی کے ہوٹل حیات میں جب کانگریس-این سی پی اور شیوسینا نے 162 ارکان اسمبلی کی پریڈ کرا ئی اور اپنے پاس اکثریت ہونے کا ثبوت پیش کیا تو   بی جے پی  سکتہ میں آگئی ۔ این سی پی صدر شرد پوار، شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے اور کانگریس کے رہنما اشوک چوان نے اس پریڈ میں  دعوی کیا کہ وہ مہاراشٹر کے اقتدار کے حق دار ہیں کیونکہ ان کی اکثریت کا ہدف ان کے پاس ہے۔ پوار نے کہا کہ بی جے پی کو سمجھنا چاہئے کہ یہ کرناٹک یا گوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 162 سے زیادہ ایم ایل اے کا بھی   جگاڑ کرا سکتے ہیں۔ دریں اثنا، ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اب وہ یہ بتائیں گے کہ شیوسینا آخر چیز کیا ہے!

سپریم کورٹ سے بھی بی جےپی کو دھکا: اُدھر عدالت عظمیٰ نے آج  منگل کو  اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فڑنویس حکومت کو 30 گھنٹوں کے اندر اکثریت ثابت  کرنی ہوگی، اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کاروائی  براہ راست نشر کی جائے گی،  نیز ووٹنگ کا عمل بھی خفیہ نہیں ہوگا۔ عدالت سے کوئی راحت نہ ملنے کے بعد دیویندر فڑنویس کے لئے تمام دروازے بند ہو گئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار بھی استعفیٰ دے کر فڑنویس سے کنارہ کر گئے۔

ابھی تک ہر کسی کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت کا کیا انجام ہونے جا رہا ہے، بس اب یہ دیکھنا باقی تھا کہ فڑنویس خود ہی اپنے استعفی کا اعلان کرتے ہیں یا فلور ٹیسٹ میں جا کر اپنی مزید فضیحت کرانے کے خواہاں ہیں! مگر انہوں نے منگل کی سہ پہر ساڑھے تین بجے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے لہذا وہ گونر بھگت سنگھ کوشیاری کو اپنا استعفی سونپنے جا رہے ہیں۔ اس طرح گزشتہ 80 گھنٹوں سے جاری ڈرامہ کا اختتام ہو گیا۔

دیویندر فڑنویس نے شیوسینا کو ٹہرایا مورد الزام:   دیویندر فدنویس نے اپنے استعفے کا اعلان کرنے سے پہلے  ریاست میں عدم استحکام کے لئے شیوسینا کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے  کہا کہ ہم نے مل کر انتخاب لڑا تھا اور اکثریت حاصل کی تھی اور عوام نے 105 نشستیں دے کر ہمیں مزید تعاون دیا، لیکن شیوسینا  نے یہ دیکھ کر کہ اس کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی ہے،  وزیراعلیٰ کے مطالبے پر بضد ہو گئی، جبکہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ شیوسینا نے حکومت بنانے کے لئے ہم سے بات کرنے کی بجائے این سی پی سے بات کی۔ فڑنویس نے شیوسینا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جن لوگوں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ ’ماتو شری‘ سے باہر نہیں نکلے، وہ باہر جاکر تمام لوگوں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔


Share: