لکھنؤ ، 16؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش میں ریزرویشن میں کوٹے کا مطالبہ کر رہے ریاستی حکومت میں وزیر سہیلدیو ہندوستانی سماج پارٹی (سبھاسپا) اسپیکر اوم پرکاش راج بھر نے بی جے پی پر ان کو روکنے کے لیے آئندہ 29 دسمبر کو غازی پور میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی کو منظم کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کی مانگ پوری نہیں کی گئی تو سبھاسپا ریاست کی تمام 80 لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گی۔
ریاست کی بی جے پی زیر حکومت میں پسماندہ طبقیہ کے فلاح وبہبود کے وزیر راج بھر نے بتایا کہ وہ اور ان کے حامی آئندہ 29 دسمبر کو غازی پور میں وزیر اعظم کی مجوزہ ریلی کا بائیکاٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی نے پسماندہ طبقہ کے لوگوں کے لئے ریزرویشن میں کوٹے کا بندوبست نہیں کرتی ہے تو سبھاسپا بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر صوبہ کی تمام 80 لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گی۔غازی پور ضلع کی ظہورآبادسیٹ سے ممبر اسمبلی راج بھر نے کہا کہ ضلع میں پچھلی بار جب وزیر اعظم آئے تھے اس وقت انہیں نہیں بلایا گیا تھا۔پوروانچل میں کہیں بھی پروگرام ہوتا ہے تو ان کو نظر انداز کرکے راج بھر برادری کے دوسرے لیڈروں کو ہی بلایا جاتا ہے۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی حال میں لکھنؤ میں ہوئے کانفرنس میں انہیں نہیں بلایا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے غازی پور میں وزیر اعظم کی ریلی کا پروگرام بنانے سے پہلے ان سے رائے لینے کی زحمت نہیں کی۔یہ ریلی راج بھر ووٹروں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہے۔مجھے روکنے کے لئے کچھ نہیں ملا تو بی جے پی نے وزیر اعظم کو بلا لیا۔راج بھر نے کہا کہ بی جے پی صدر امت شاہ نے لوک سبھا انتخابات سے چھ ماہ پہلے پردیش میں کوٹہ میں کوٹہ نافذ کرنے کا اعلان کرنے کو کہا تھا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسے کوئی آثار دکھائی دے رہے ہیں۔اگر بی جے پی نے پسماندہ طبقوں کے لئے ریزرویشن کا بندوبست نہیں کرتی تو سبھاسپا پردیش کی تمام 80 لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتر پردیش سے ملحق بہار کے مختلف اضلاع میں بھی 16 سیٹوں پر انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں پڑے پیمانے پر مصروف ہیں۔راج بھر نے کہا کہ بی جے پی شاید پٹیل اور یادو ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی، اسی لیے ریزرویشن میں ریزرویشن کا انتظام نہیں کر رہی ہے لیکن اس طرح وہ دوسرے پسماندہ طبقوں کے 38 فیصد ووٹروں سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔اگر ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد ہو جائے گا تو یہ 38 فیصد ووٹر انہی جماعتوں میں چلے جائیں گے اور بی جے پی کے لیے 10 نشستیں جیتنا بھی مشکل ہو جائے گا۔اس سوال پر کہ حال میں نئی پارٹی بنانے والے سینئر سماجوادی لیڈر شیوپال سنگھ یادو اگلے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو کتنا نقصان پہنچائیں تو راج بھر نے کہا کہ بی جے پی نے شیو پال کو مایاوتی کا بنگلہ دے کر اور زیڈ پلس سیکورٹی دے کر غلط کردی۔ایس پی سے جو لوگ شیوپال سے منسلک ہو رہے تھے وہ بی جے پی حکومت کے اس قدم سے واپس لوٹنے لگے۔آج یادو برادری کے 95 فیصد لوگوں نے اکھلیش کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ جہاں تک دلتوں کا سوال ہے تو وہ مایاوتی کے ساتھ ہیں۔