ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی ایچ یومعاملہ: مسلم پروفیسر فیروز خان کی مخالفت میں دھرنا، 12 دنوں سے پڑھائی ٹھپ، طالب علموں سے ملے وائس چانسلر

بی ایچ یومعاملہ: مسلم پروفیسر فیروز خان کی مخالفت میں دھرنا، 12 دنوں سے پڑھائی ٹھپ، طالب علموں سے ملے وائس چانسلر

Tue, 19 Nov 2019 21:33:33    S.O. News Service

وارانسی،19نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کاشی ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں سنسکرت پروفیسر کے خلاف چل رہی مخالفت سے گزشتہ 12 دنوں سے پڑھائی مکمل طور ٹھپ ہے۔سنسکرت ودیا مذہب سائنس فیکلٹی کے ادب کے سیکشن میں مسلم پروفیسر فیروز خان کی تقرری معاملے پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔اس دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مظاہرین طالب علموں سے ملاقات کی۔پروفیسر نے طالب علموں سے یقینی بنایا کہ مسلم پروفیسر کی تقرری بی ایچ یو ایکٹ اور مرکزی یو جی سی گائیڈلائنس کے تحت ہوئی ہے۔انہوں نے طالب علموں سے مظاہرہ ختم کرنے کی بھی اپیل کی۔

ذرائع کے مطابق، بی ایچ یو کے سنسکرت ودیا مذہب سائنس فیکلٹی میں گزشتہ 12 دنوں سے درس و تدریس مکمل طور ٹھپ ہے اور طالب علم دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ اور مظاہرین طالب علموں کے درمیان کئی مراحل کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے،معاملہ کب ختم ہو گا، اس پر شک برقرار ہے۔دھرنے پر بیٹھے طالب علم ڈھول مجیرے کے ساتھ رگھوپتی راگھو راجہ رام کابھجن کر رہے ہیں۔

بھجن کے بیچ میں وہ وائس چانسلر کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔ادھرنے کی قیادت کر رہے پی ایچ ڈی طالب علم چکرپا اوجھا کے مطابق احتجاج فیروز خان (بی ایچ یو کے پروفیسر) کے خلاف نہیں، بلکہ مذہب سائنس فیکلٹی میں ایک غیر ہندو کی تقرری کا ہے،اگر یہی تقرری یونیورسٹی کے کسی بھی دوسرے فیکلٹی میں سنسکرت ٹیوٹر کے طور پر ہوتی تو مخالفت نہیں ہوتی۔

چکرپا نے آگے کہاکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سنسکرت ودیا کوئی بھی کسی بھی مذہب کا شخص پڑھ اور پڑھا سکتا ہے، لیکن مذہب سائنس کی بات جب کوئی دوسرے مذہب کا شخص کرے تو اعتماد نہیں رہ جاتا۔دریں اثنا، اسسٹنٹ پروفیسر فیروز خان کا کہنا ہے کہ میرے والد رمضان خان نے سنسکرت میں شاستری کی ڈگری لی ہے۔انہیں کی ترغیب سے میں نے سنسکرت کا مطالعہ شروع کیا،میں نے دوسری کلاس سے سنسکرت کی تعلیم لینی شروع کی،سنسکرت سے میں نے جے آرایف کیا، لیکن کبھی بھی مسلم ہونے کے ناطے کوئی پریشانی نہیں ہوئی،مگر تقرری کو لے کر چل رہی تحریک سے میں حوصلہ شکنی ہوئی۔

یونیورسٹی نے تقرری کے عمل کو مکمل طور شفاف قرار دیتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فیروز خان کی تقرری کو صحیح ٹھہرایا ہے۔وائس چانسلر راکیش بھٹناگر نے کہاکہ یونیورسٹی مذہب، ذات، فرقے، جنس وغیرہ کے امتیازی سلوک سے اوپر اٹھ کر ملک کی تعمیر کے لئے سب کا مطالعہ اور تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ سنسکرت محکمہ کے پروفیسر رام نارائن دوبے نے کہاکہ یہ بات غلط ہے کہ ٹیوٹر بھی ان (مظاہرین طالب علم) ساتھ ہیں،طالب علم قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،کوئی بھی تقرری یو جی سی کے گاڈلان کے مطابق ہی ہوئی ہوگی۔


Share: