لکھنؤ24 ستمبر(ایس او نیوز؍؍آئی این ایس انڈیا ) گورکھپور میڈیکل کالج میں گزشتہ سال بڑی تعداد میں مریض بچوں کی موت کے معاملہ میں مجرم قرار دیئے گئے اور پھر عدالت کے حکم پر رہا کئے اپنی ڈیوٹی سے جبری برخاست شدہ ڈاکٹر کفیل خان کو بہرائچ ضلع اسپتال میں بے ترتیبی پھیلانے کے الزام میں ہفتہ کو گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے پرتاپ نے اتوار کو بتایا کہ ڈاکٹر کفیل کو پولیس نے ہفتہ کو بہرائچ ضلع اسپتال میں مبینہ بے ترتیبی، انتشار اور ڈاکٹروں سے نوک جھونک کرنے کے الزام میں ہسپتال انتظامیہ کی تحریر پر مقدمہ درج کر گرفتار کیا تھا۔ بعد میں مجسٹریٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔رہائی کے بعد پولیس کی گاڑی ان کے پیچھے تھی اور ہفتہ کو ہی وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ بہرائچ کی سر حد سے باہر نکل گئے ۔ادھر، کفیل کے بھائی عدیل نے بتایا کہ کفیل نے گورکھپور سے اپنے گھر نہیں پہنچے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس نے اب بھی ڈاکٹر کفیل کو کسی نامعلوم جگہ پر رکھا ہوا ہے۔ عدیل نے بتایا کہ ہفتہ ، اتوار کی درمیانی رات ڈھائی بجے تک ان کی ڈاکٹر کفیل کے ڈرائیور سے بات چیت ہو رہی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ کفیل کو پہلے چلوریا کی سمبھاولی چینی مل اور بعد میں جرول چینی مل میں رکھا گیا، جہاں سے انہیں گورکھپور بھیجا جا رہا ہے۔ رات ڈھائی بجے سے ڈاکٹر کفیل کا موبائل بند ہے۔غور طلب ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو گزشتہ سال اگست میں گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر آکسیجن کی کمی سے ہوئی بچوں کی موت کے معاملے میں ملزم بنا کر گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعہ کے وقت وہ انتہائی نگہداشت وارڈ کے نوڈل افسر تھے۔ بعد میں حکومت نے انہیں سروس سے برطرف کر دیا تھا۔ اگرچہ کچھ ماہ پہلے عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔کفیل ہفتہ کو بہرائچ ضلع اسپتال میں بچوں کی ہوئی اموات کے بعد بغیر کسی حکم یا بلاوے کے وہاں پہنچے تھے اور مبینہ طور پر بچوں کو ٹیسٹ کرنے لگے تھے ساتھ ہی وہ پریس کانفرنس بھی کرنا چاہ رہے تھے، مگر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔