نئی دہلی ،12 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) قومی اقلیتی کمیشن نے بہار کے سیتامڑھی ضلع میں پولیس حراست میں دو نوجوانوں کی پراسرار طریقے سے موت کو قتل قرار دیتے ہوئے ریاستی انتظامیہ سے کہا ہے کہ اس پورے معاملے کی عدالتی جانچ کرائی جائے اور قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے۔کمیشن نے ’سیتامڑھی سنگھرش سمیتی‘ نامی تنظیم کی شکایت کے بعد اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی انتظامیہ کو نوٹس بھیج کر 10 دن کے اندر جواب مانگا ہے۔اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سید گحسن رضوی نے منگل کو کہاکہ پولیس حراست میں دو نوجوانوں کا قتل کیا گیا ہے۔ہم نے ریاستی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی عدالتی جانچ کرائے اور قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پولیس محکمہ کے کچھ لوگوں کو معطل کیا گیا ہے، لیکن یہ کارروائی کافی نہیں ہے۔قصورواروں کے خلاف قتل کا معاملہ درج ہونا چاہئے۔کمیشن کے سامنے کی گئی شکایت میں ’سیتامڑھی سنگھرش سمیتی‘ کے صدر محمد شمس شاہنواز نے کہاکہ میڈیا کی خبروں کے مطابق 28 سالہ غفران اور 30سالہ تسلیم عالم کو لوٹ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔لیکن چھ مارچ کی شام کو اچانک دونوں کو سیتامڑھی کے صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں دونوں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔انہوں نے دعوی کیاکہ پوسٹ مارٹم میں ان دونوں نوجوانوں کے جسم پر کرنٹ لگائے جانے اور چوٹ جیسے نشانات ملے ہیں۔