بھٹکل 30/اگست (ایس او نیوز) زہرخورانی سے خودکشی کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد جب لڑکی کو اُڈپی اسپتال سے علاج کے بعد واپس گھر لایا گیا تو اُس نے کنویں میں چھلانگ لگا کرخودکشی کرلی۔ یہ واردات آج جمعہ کی صبح منظر عام پر آئی ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل مرڈیشور کے رہنے والے عاشق گگن ایشور نائک اور معشوقہ سنگیتا مادھو نائک نے منکی کے ایک جنگل میں زہر خورانی کے ذریعے خودکشی کی کوشش کی تھی جس میں گگن اسپتال لے جانے کے دوران ہلاک ہوگیا تھا جبکہ سنگیتا کو نازک حالت میں اُڈپی کے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سنگیتا کی حالت ٹھیک ہونے کے بعد اُسے کل جمعرات کو مرڈیشور کے بیدرے منے میں واقع اُس کے گھر لایا گیا، مگر رات کے کسی پہر میں سنگیتا نے اپنے ہی گھر کے پچھواڑے میں واقع ایک کنویں میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔
ذرائع نے بتایا کہ سنگیتا گھر واپس آنے کے بعد بار بار اس بات کو دھرا رہی تھی کہ وہ اب زندہ رہنا نہیں چاہتی، مگر گھروالوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اچانک رات کو اُٹھ کر ایسا انتہائی قدم اُٹھائے گی۔ رات کو وہ اپنے گھروالوں کے ساتھ ہی گھر پر آرام کررہی تھی، مگر صبح جب گھروالوں کی انکھ کھلیں تو وہ اپنے بستر سے غائب تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اُس نے کنویں میں کود کر خودکشی کی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ 28 اگست کو سنگیتا اور گگن نے منکی کے ایک مندر میں جاکر شادی رچائی تھی، مگر غالباً ان کے گھروالے ان کی شادی کے مخالف تھے، شبہ ہے کہ گھر والوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے بدھ کو دونوں نے زہر پی کر خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے دوران گگن کی موت واقع ہوگئی تھی اور سنگیتا شدید زخمی تھی، مگر اب معشوقہ نے اپنےعاشق کے لئے اپنی جان دے دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مرڈیشور پولس جائے وقوع پر پہنچی اور نعش کو باہر نکالتے ہوئے مرڈیشور سرکاری اسپتال پہنچایا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش گھروالوں کے حوالے کی گئی ہے۔ پولس مزید چھان بین کررہی ہے۔