ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: جانور کا شکار کرکے کار چھوڑ کر فرار ہونے کا معاملہ؛ دو لوگوں کوگرفتا کرکے کاروار جیل بھیجا گیا؛ فوریسٹ دفتر کے باہر لوگوں کا احتجاج

بھٹکل: جانور کا شکار کرکے کار چھوڑ کر فرار ہونے کا معاملہ؛ دو لوگوں کوگرفتا کرکے کاروار جیل بھیجا گیا؛ فوریسٹ دفتر کے باہر لوگوں کا احتجاج

Tue, 23 Feb 2021 00:37:14    S.O. News Service

بھٹکل 22 فروری (ایس او نیوز)  آج صبح مدینہ کالونی محٰی الدین اسٹریٹ سکینڈ کراس پر ایک لاوارث کار پائی جانے کے معاملے میں ایک نیا موڑ اُس وقت آگیا جب محکمہ جنگلات کی طرف سے    اُن دو لوگوں پر ہی معاملہ  درج کر دیا گیا جن کے مکان کے باہر گاڑی پارک کی ہوئی تھی  اور  دونوں کو  پوچھ تاچھ کے نام پر محکمہ جنگلات کے دفتر لے جایا گیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ ان دونوں پر ہی معاملات درج کرکے  رات قریب نو بجے عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے  دونوں کو جوڈیشیل کسٹدی  میں بھیجے جانے کا حکم دیتے ہوئے کاروار جیل منتقل کیا گیا۔

یاد رہے کہ صبح  محٰی الدین اسٹریٹ سکینڈ کراس میں واقع ایک گھر کے باہر ایک مہاراشٹرا نمبر پلیٹ والی ایک گاڑی لاوارث حالت میں پائی گئی تھی جس کے اندر سے  قریب سو کلو  گوشت برآمد کیا گیا تھا، محکمہ جنگلات کے آفسران کا کہنا تھا کہ   ہوناور  کے گیرسوپا جنگل سے جانور کا شکار کرکے یہ گاڑی وہاں سے فرار ہوئی تھی اور پولس بیری کیڈ کو بھی توڑتے ہوئے دو فوریسٹ اہلکاروں کو بھی زخمی کیا تھا۔ بعد میں وہ گاڑی محی الدین اسٹریٹ میں  ایک مکان کے باہر پارک کی ہوئی پائی گئی۔  متعلقہ گھر والوں کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی اُن کی نہیں ہے اور کن لوگوں نے  اور کب یہ گاڑی یہاں پارک کیا ہے، اُس تعلق سے انہیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ گھر پر موجود نوید انجم اور ظہیر الدین کو محکمہ جنگلات کے  آفسران نے پوچھ تاچھ کے لئے  اپنی گاڑی میں بٹھاکر لے گئے تھے جبگہ علاقہ کے مزید دو نوجوانوں کو  پوچھ تاچھ کے لئے محکمہ جنگلات کے دفتر آنے کے لئے کہا تھا۔

جن دو لوگوں پر اب معاملہ درج کرکےکاروار جیل  بھیجا گیا ہے، اُن کی شناخت   ینگ اسٹار کے کھلاڑی  نوید انجم اور ان کے بہنوئی ظہیر الدین کی حیثیت سے کی گئی ہے۔  مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ظہیر الدین   کی کنداپور میں دکان ہے، اور وہ اتوار شام کو ہی بھٹکل اپنے سسرال آئے تھے، جبکہ نوید انجم صبح کی نماز کے بعد اپنی ٹیم کے  کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں  پریکٹیس  کررہے تھے، جیسے ہی پتہ چلا کہ  فوریسٹ کے لوگ ان کے گھر کی طرف گئے ہیں تو وہ کھیل چھوڑ کر  اپنے گھر پہنچے تھے۔ ینگ اسٹار کے کھلاڑیوں نے ان دونوں کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور  بتایا ہے کہ یہ دونوں بے قصور ہیں اور محکمہ جنگلات کے آفسران اپنی  ناکامی چھپانے کے لئے بے قصوروں پر   غلط اور بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے اُنہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ینگ اسٹار کے کھلاڑیوں نے ایک وڈیو بھی  جاری کی ہے جس میں نوید انجم  کرکٹ کی پریکٹس کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

پتہ چلا ہے کہ محکمہ جنگلات کے آفسران کی طرف سے  ینگ اسٹار کے جن  دو کھلاڑیوں کو   پوچھ تاچھ کے لئے  آفس آنے کی ہدایت دی  تھی  وہ دونوں جب صبح  محکمہ جنگلات کے آفس پہنچے تو ، ان دونوں کو صبح سے لے کر رات نو بجے تک فوریسٹ آفس میں ہی رکھا گیا تھا۔  رات قریب نو بجے جب محکمہ جنگلات کے آفس کے باہر کافی تعداد میں لوگ جمع ہونا شروع ہوئے  اور  چار لوگوں کو نہ چھوڑے جانے پر احتجاج کرنے لگے  تو  دو لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ینگ اسٹار کے  دو نوں کھلاڑیوں  کو چھوڑ دیا گیا۔

کورونا پوزیٹیو:   پتہ چلا ہے کہ  محکمہ جنگلات کے آفسران نے جن دو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرکے کاروار جیل بھیجا ہے، اُن میں  سے ایک کی کورونا رپورٹ پوزیٹیو آئی ہے۔ رپورٹ پوزیٹیو آنے کے بعد محکمہ جنگلات کے اہلکاروں میں ہلچل مچ گئی  ہے۔

محکمہ جنگلات کے آفس کے باہر عوام کا احتجاج:      صبح سے شام ہونے تک پوچھ تاچھ کے نام پر جن چار لوگوں کو محکمہ جنگلات کے آفسران نے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا، اُن کو شام ہونے تک بھی  رہا نہ کرنے پر ناراض محی الدین اسٹریٹ کے کافی لوگ محکمہ جنگلات کے دفتر کے باہر جمع ہوگئے ا ور چاروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس موقع پر  آفسران نے  بتایا کہ وہ دو لوگوں کو    رہا کررہے ہیں مگر متعلقہ گھر کے  دو  افراد کے خلاف   معاملہ درج کرکے  عدالت میں پیش کررہے ہیں۔ اس موقع پر عوام نے محکمہ جنگلات کے آفسران پر الزام لگایا کہ اصلی لوگوں کو بچانے   کے لئے   بے قصوروں کو بلی کا بکرا بنارہے ہیں۔ رات دیر گئے تک  فوریسٹ آفس کے   باہر  پی ایف آئی لیڈر توفیق بیری اور دیگر ممبران کے ساتھ ساتھ   جالی پٹن پنچایت کے رکن افتاب دامدا اور سماجی کارکن ارشاد صدیقہ سمیت کافی لوگ جمع تھے۔

پتہ چلا ہے کہ  رات کو ہی دو  لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور دونوں کو کاروار جیل بھیج دیا گیا جبکہ دیگر دو لوگوں کو رہا کردیا گیا۔ جن دو لوگوں کو گرفتار کرکے کاروار جیل بھیجا گیا ہے، اُن پر کونسے دفعات  کے تحت کیا الزامات عائد کئے  گئے ہیں اس تعلق سے معلومات نہیں مل سکی ہے۔

 


Share: