بھٹکل،25؍ مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے بیلکے گرام پنچایت علاقہ میں مبینہ طور پر محکمہ جنگلات کے عملہ نے اتی کرم زمین پر کی گئی کھیتی باڑی اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اتی کرم زمین پر بسنے والوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی ہوراٹا سمیتی کے صدر رویندرا نائک نے اپنی ٹیم کے لوگوں کے ساتھ محکمہ جنگلات کے دفتر کے سامنے 24x7 دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ شام پانچ بجے دھرنے پر بیٹھ گئے، مگر محکمہ جنگلات کے آفسران نے ان کے مطالبات کو فوری قبول کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
فوریسٹ دفتر پردھرنا کے دوران رویندرا نائک نے بتایا کہ بیلکے تعلقہ میں ایک زمانہ سے اتی کرم جنگلاتی زمین پر بسنے والے افراد کھیتی باڑی کرتے آئے ہیں ۔ ان لوگوں نے جنگلاتی حقوق قانون کے تحت اپنے زمین کے حقوق کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں ۔ ان کی زمینوں کا سروے بھی کیا جا چکا ہے ۔ ایسے لوگوں کو تنگ نہ کرنےاور زمین سے بے دخل نہ کرنے کے عدالتی احکام رہنے کے باوجود بھٹکل تعلقہ میں محکمہ جنگلات کے افسران اور عملہ کی طرف سے ظلم و ستم ڈھایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیلکے گرام کے نارائن تمپا نائک، شریدھر تمپا نائک ، چندرو نائک ، مادیوا نائک ، شیوپا نائک اور دیگر افراد کے کھیتوں اور باغات کو محکمہ جنگلات کے عملہ نے تباہ وبرباد کردیا ہے ۔ سرکاری اور قانونی حکام اتی کرم داروں کی حمایت میں رہنے کے بعد بھی مقامی فاریسٹ عملہ غیر قانونی حرکتوں اور اپنے ظلم وستم سے باز نہیں آرہا ہے ۔ رویندرا نائک کا کہنا تھا کہ اس پس منظر میں وہ تین مطالبات کے ساتھ بھٹکل تعلقہ فاریسٹ آفس کے سامنے رات دن کے مسلسل دھرنے پر بیٹھ رہے ہیں۔ اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے رویندرا نائک نے بتایا تھا کہ 24 مارچ کو بھٹکل تعلقہ میں اتی کرم داروں پر جو ظلم و ستم ڈھایا گیا تھا،محکمہ جنگلات کے اُن اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ جنگلاتی زمین پر بسنے والوں کا جو بھی نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی محکمہ جنگلات کی جانب سے کی جائے اور جنگل واسیوں کے ساتھ غیر قانونی ہراسانی ، ظلم و ستم اور انہیں نقصان پہنچانے کی کارروائیاں پوری طرح بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
موقع پر پہنچتے ہوئے محکمہ جنگلات کے آفسران نے آتی کرم ہوراٹا سمیتی کے مطالبات کو قبول کرتےہوئے دھرنا کو ختم کرنے کی درخواست کی، اس تعلق سے آتی کرم ہوراٹاسمیتی کی طرف سے بات کرتےہوئے عنایت اللہ شاہ بندری نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ محکمہ جنگلات کے آفسران نے سمیتی کو یقین دلایا ہے کہ محکمہ جنگلات کے جن اہلکاروں نے بھی بیلکے میں پہنچ کر توڑپھوڑ کی کاروائی کی تھی، وہ اس کی جانچ کریں گے اور خاطی پائی جانے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے، انہوں نے اس تعلق سے دو دنوں کی مہلت مانگی ہے۔ اسی طرح جن آتی کرم داروں کو جی پی ایس مل چکا ہے، اُنہیں آگے کسی بھی طرح سے تنگ و ہراساں نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ عنایت اللہ شاہ بندری نے بتایا کہ پرانے آتی کرم داروں کو اگر محکمہ جنگلات کے اہلکار کسی بھی طرح سے تنگ وہراساں کرتے ہیں تو وہ آتی کرم ہوراٹا سمیتی کو اپنی شکایت درج کرواسکتےہیں۔