بھٹکل:27؍ جنوری(ایس اؤ نیوز ) مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے ملک کے پیچیدہ حالات اور دستور کےپامالی کے واقعات کو دیکھتےہوئے یوم ِ جمہوریہ کی مناسبت سے 26جنوری بروز جمعرات کی شام تنظیم ہال میں ہندو وں اور مسلمانوں کے ساتھ یوم جمہوریہ ہم آہنگی ملن کے موضوع پر بہت ہی معنی خیز پروگرا م کا انعقاد کیا جو اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔
پروگرام میں سنجیدہ اور بااثر ہندو مسلم شخصیات شریک ہوکر ہم سب ایک ہیں کا پیغام دیا۔ اور نامدھاری طبقے کے ایم آر نائک، کنڑا ساہتیہ پریشد کےمقامی صدر گنگادھر نائک، سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک اور سدبھاؤنا منچ کے مقامی صدر ستیش نائک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے بھٹکل کی ہندو مسلم ہم آہنگی اور بھائی چارگی کو مثالوں کے ذریعے پیش کیا تو وہیں نفرت اور دشمنی پھیلانے والوں سے کہاکہ تم تمہارا کام کتنے ہی زور اور طاقت سے کرو ،ہم بھی اپنا پیغام پھیلائیں گے ۔
پروگرام میں مہمان خصوصی کےطورپر شریک جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے سکریٹری اکبر علی اُڈپی نے بزبان کنڑا پرمغز خطاب کرتےہوئے کہاکہ ملک کے حالات پر نہ جائیں بلکہ اپنا کام کریں ایسے میں کچھ لوگ ضرور کہیں گےکہ چھوٹی سی کوششوں سے کیا ہوگا ، انہیں کہیے کہ آگ بجھا سکتا ہوں یا نہیں پتہ نہیں البتہ آگ بجھانے والو ں کی فہرست میں میرا نام شامل ضرور ہو۔ اسی طرح جو لوگ جھوٹ کو 100مرتبہ بول کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں ، ہمیں سچ بولنے میں کونسا تذبذب حائل ہے ۔ ہم میں اتنی طاقت تو ہونی چاہئے کہ ہم سچ کو 100نہیں تو کم ازکم 10مرتبہ بولیں ، بعد میں سچ خود اپنی بولی بولے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارے اسلاف کی قربانیوں کے بعد ہمیں ملا ہے ، انہوں نے کئی مشکلات کا سامنا کرتےہوئے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اس کے بعد ہم آزاد ہوئےہیں۔ جب ہم سب نےمل کر وقت کی سپریم پاور انگریزوں کو کنارے لگایا تھا تو کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ ظالموں کو اقتدار سے اتار نہیں سکتے۔ ہمیں اس کی کوشش کرنی چاہئے۔ گاندھی جی نے جب چرکا گھومایا تھا اور شانتی کا پیغام دیا تھا تو لوگو ں نے انہیں دیوانہ کہاتھا مگر یاد رکھئے گاندھی جی کا چرکا جب گھوما تو انگریزوں کا سر چکرایا تھا اور امن وشانتی کےراستے ہی سے آزادی حاصل ہوئی تھی۔ عدم تشدد کا راستہ ہی ہمارے لئے نمونہ ہے ہم اسی کے ذریعے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہئے۔
موصوف نے سورہ حجرات کی آیت کے حوالے سے کہاکہ ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی شناسائی کےلئے ہمیں مختلف قبائل اور طبقات بنایا۔ جب کہ خالق کائنات ہمیں ایک بناسکتاتھا لیکن نہیں بنایاتاکہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔
یہ جو ہم کہتےہیں کہ سب کا خون ایک ہے بالکل صحیح ہے لیکن خون کے گروپ الگ الگ ہیں ۔ اے پوزیٹیو، اے نیگیٹیو، بی پوزیٹیو، بی نیگیٹیو اس طرح خون کے کئی گروپس ہیں اور یہ ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتے ، باپ کا خون بیٹے کو نہیں دے سکتے، شوہر کا بیوی کو نہیں دیا جاسکتا، جب سب کا خون ایک ہی ہے تو ہم ایک دوسرے کے خون سے استفادہ نہیں کرسکتے ،میرا خون میرے بیوی بچوں کےلئے نہیں ہوسکتاہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئےکہ خالق کائنات نے کثرت میں وحدت کا تصور دیا ہے ۔ اور ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی دستور میں اسی تصورکو پیش کیا ہے۔ کل مجھے کس کے خون کی ضرورت پڑے گی مجھے نہیں پتہ تو پھر میں کیوں دوسروں سے دشمنی کروں۔جب میں اپنے بیوی بچوں سےمحبت کرتاہوں تو ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ میں دوسروں سے بھی پیار و محبت کروں۔ کثرت میں وحدت فطرت کا قانون ہے ہمیں اسی کے ساتھ جینا ہے۔
اس ملک کا دستور کہتاہے کہ یہاں کے اقتدار، عدلیہ اور محکمہ جات میں کسی دھرم کو ترجیح نہیں دی جائے گی بلکہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کیاجائے گا۔ لیکن خود امبیڈکر کا قول ہے کہ دستور کتنا بھی اچھا ہو اسکو نافذ کرنےوالے بے کارلوگ ہیں تو وہ دستور کسی کا م کا نہیں رہے گا اور وہیں نافذکرنے والے اچھےہوں تو دستور کتنا بھی خراب کیوں نہ ہو وہ اچھا کہلائےگا۔ تو اس وقت ہمیں اس ملک کے دستور کی حفاظت کرنا ضروری ہے ۔ تاریخ کی یہ سچائی ہےکہ پھوٹ ڈالنے والے ، توڑنے والے کبھی ایک نہیں ہوسکتے متحد نہیں ہوسکتے ، وہ بھی ایک دن ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ پتھر کا جواب پتھر نہیں ، برائی کا جواب برائی نہیں ،بلکہ برائی کو بہترین طریقے سے ختم کرنےکی قرآن ہدایت دیتاہے۔ تو امن و امان ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہمیں جدوجہد کرنا چاہئے۔ اپنے خطاب میں اکبر علی نے کہاکہ تنظیم کی طرف سے منعقدہ یہ پروگرام ملک کے لئے ایک مثالی پروگرام ہے۔ زہر گھولنےوالوں کے درمیان محبت اور امرت کی تقسیم کرنا بہت ہی اہم ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ سدبھاؤنامنچ کے جنرل سکریٹری محمد رضامانوی نے استقبال کیا انہوں نے ہی نظامت کے فرائض بھی انجام دئیے۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری ایم جے عبدالرقیب نے افتتاحی کلمات پیش کئے ، تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے صدارت کی ۔ تنظیم کے نائب صدر محی الدین رکن الدین نے شکریہ کلمات اد اکئے۔ اس موقع پر محمد اقبال میڈیکل، ہاشم برنی ، سید محی الدین برنی ، محمد حسین معلم وغیرہ موجود تھے۔