ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی طرف سے رکن اسمبلی کو دیاگیا میمورنڈم ۔10کروڑ روپے منظور کرانے کی اپیل 

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی طرف سے رکن اسمبلی کو دیاگیا میمورنڈم ۔10کروڑ روپے منظور کرانے کی اپیل 

Sun, 02 Dec 2018 21:33:00    S.O. News Service

بھٹکل 2؍دسمبر (ایس او نیوز) رکن اسمبلی سنیل نائک کو جالی پٹن پنچایت کی جانب سے ایک میمورنڈم دیتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ روزانہ 4ملین لیٹر پینے کا پانی فراہم کرنے لائق منصوبے کو منظوری دی جائے  اور علاقے کے عوام کو راحت دلائی جائے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ 2015-16میں جالی گرام پنچایت کا درجہ بڑھاتے ہوئے اسے پٹن پنچایت میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ اس علاقے کی آبادی فی الحال 19362افراد پر مشتمل ہے۔جبکہ گرام پنچایت میں آبادی 10تا 12ہزار کے قریب تھی۔ اس وقت یہاں 1MLDپینے کے پانی سپلائی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔لیکن اب موجودہ آبادی کے حساب سے 2.57MLD پانی کی فراہمی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔اور آئندہ 20برسوں میں یہاں 4MLD پانی کی ضرورت پیش آنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ فی الحال پانی سپلائی کرنے والے پائپ کا جو نظام یہاں موجود ہے اس کی وجہ سے اونچائی والے علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی ہے۔اس لئے پانی سپلائی کرنے والے ان نلوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔

ان سب وجوہات کے پیش نظر رکن اسمبلی سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ جالی پٹن پنچایت علاقے میں 4MLDپانی فراہمی کے منصوبے کے لئے حکومت کے پاس سفارش کریں اور جالی کے عوام کو راحت پہنچانے کا کام کریں۔

اس کے علاوہ ایک اور میمورنڈم دیتے ہوئے رکن اسمبلی سے مانگ کی گئی ہے کہ جالی پٹن پنچایت علاقے میں عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایس ایف سی فنڈ سے خصوصی گرانٹ منظور کی جائے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جالی پٹن پنچایت کے علاقے میں ترقیاتی کام بہت ہی سست رفتاری سے ہوئے ہیں۔یہاں کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔چونکہ اس گرام پنچایت کو پٹن پنچایت کا درجہ ابھی حال ہی میں دیا گیا ہے اس لئے یہاں کے عوام کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کروانا پنچایت کی ذمہ داری ہے۔پہلے سے جو بھی سہولتیں یہاں دستیاب ہیں وہ گرام پنچایت سطح کی ہیں۔ اب اس میں ترقی کرنا اور معیار کو بڑھا نا لازمی ہے۔ چاہے وہ پینے کے پانی کا مسئلہ ہو، سڑکوں پر روشنی کا نظام ہو، سڑکوں کی تعمیر ہو یا گند ے پانی کی نکاسی کا نظام وغیرہ ہو، سب کچھ درست کرنا اور پٹن پنچایت کے تقاضوں کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ فی الحال جو بھی گرانٹ پٹن پنچایت کو مل رہی ہے وہ ترقیاتی کاموں کے لئے بہت ہی ناکافی ہے۔جس کی وجہ سے یہاں ترقیاتی کام انجام دینا ممکن نہیں ہورہا ہے۔

جن علاقوں میں جس قسم کے بھی ترقیاتی کام ضروری ہیں ان کی تفصیلات میمورنڈم میں بیان کرتے ہوئے ایس ایف سی فنڈ سے 10کروڑ روپے گرانٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


Share: