ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنٹوال کاایک سرکاری اسکول، جہاں پہلی جماعت میں داخلے کے لئے قطار لگی ہوئی ہے!

بنٹوال کاایک سرکاری اسکول، جہاں پہلی جماعت میں داخلے کے لئے قطار لگی ہوئی ہے!

Mon, 09 Mar 2020 20:33:32    S.O. News Service

منگلورو10/مارچ (ایس او نیوز) نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لئے ابھی چار مہینے باقی ہیں، لیکن بنٹوال کے داڈلکاڈ علاقے میں جو سرکاری اسکول ہے اس میں پہلی جماعت کے داخلے کے لئے قطار لگ گئی ہے اور بہت سے لوگ ابھی ویٹنگ لسٹ میں رہ گئے ہیں۔

اس اسکول کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے۔ آج سے پانچ سال قبل یہاں پہلی جماعت سے ساتویں جماعت تک صرف 30 بچے زیر تعلیم تھے۔ اس وجہ سے اس سرکاری اسکول کو بند کردینے کی نوبت آگئی تھی۔ لیکن بنٹوال کے سری درگا کلب نے مداخلت کی اور اسکول کو گود لے لیا۔ اس کلب کے قائد پرکاش انچن نے سرکاری اسکولوں کو بچانے اور ترقی دینے کی ایک مہم چلارکھی ہے۔ اسی کے تحت اس سرکاری اسکول کو ازسرنو ترقی دینے کی مہم چلائی گئی۔ انچن نے بتایا کہ تعلیم کے فروغ میں دلچسپی رکھنے خیر خواہوں کی طرف سے نقد رقم، تعمیری ساز وسامان، کمپیوٹرس اور فرنیچر کی شکل میں چار کروڑ روپوں کا عطیہ موصول ہوا۔ اس طرح اسکول کو ترقی دی گئی تو پانچ سال میں اس کا تعلیمی معیار بھی بلند ہوا اور اس وقت یہاں پر ایل کے جی سے آٹھویں جماعت تک 800 سے زائد بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ کنڑا میڈیم کے ساتھ تمام جماعتوں میں انگریزی بھی بطور ایک مضمون پڑھایا جارہا ہے۔ سرکاری طور پر آئندہ سال سے نوویں جماعت کی اجازت بھی مل گئی ہے۔

اسکول کے ہیڈ ماسٹرموریس ڈیسوزا نے بتایا کہ امسال پہلی جماعت میں داخلے کے لئے 111 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، مزید درخواستیں قبول کرنا بند کردیا گیا ہے۔ گزشتہ سال 108طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا، جبکہ سرکاری طور پر پہلی جماعت میں صرف 30 بچوں کے داخلے کی اجازت ہے۔ داخلے کے خواہشمند والدین انتظامیہ کمیٹی، اساتذہ وغیرہ پر دباؤ بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی ایم ایل اے کے سفارش نامے تک ساتھ میں لارہے ہیں۔ فی الحال اسکول میں 20 کلاس رومس ہیں۔ مزید14کلاس رومس اور ایک ہال زیر تعمیر ہے۔

پرکاش انچن نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اس اسکول کی تعمیر نو اور ترقیاتی کاموں کے لئے کوئی فنڈ موصول نہیں ہوا۔ تمام کا تمام خرچ نجی عطیہ جات سے پورا کیا گیا۔ اب حکومت سے طلبہ کی تعداد بڑھا نے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ کیونکہ اس اسکول میں داخلے کے لئے 8 تا 9 کلو میٹر کے دائرے سے لوگ یہاں آ رہے ہیں۔ صرف ٹیمپو سروس کی معمولی فیس طلبہ سے وصول کی جاتی ہے۔ فی الحال اسکول کے پاس چار بسیں موجود ہیں، مزید گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ ہے۔

داڈلکا گورنمنٹ اسکول کی اس کہانی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اگر کچھ لوگ اپنے علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو بہتر شکل دینے کی مخلصانہ کوشش کریں اور اسے ایک مشن بنالیں تو آج بھی مستحق طلبہ کو سرکاری سطح پر مفت سہولیات کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کروانا ممکن ہوسکتا ہے۔


Share: