نئی دہلی، 19؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) بابری مسجد کی شہادت، پھر اس پر اپنا دعویٰ اور عدالت میں بھی جیت حاصل کرنے کے بعد ہندوتوا تنظیموں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ پہلے گیان واپی مسجد کے تالاب میں فوارے کے پتھر کو شیولنگ قرار دے کر اپنا دعویٰ پیش کردیا پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا ہوا اب دہلی کی تاریخی جامع مسجد پر بھی اپنا دعویٰ پیش کیا ہے اور مسجد کے نیچے کھدائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تازہ مطالبہ ہندو مہاسبھا کے سربراہ سوامی چکرپانی کی طرف سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جامع مسجد کے نیچے ہندو دیوی-دیوتاؤں کی مورتیاں ہیں۔ اس سلسلے میں سوامی چکرپانی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر جامع مسجد کے چبوترے اور سیڑھیوں کی کھدائی کرانے کی اپیل کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوامی چکرپانی نے جامع مسجد کے شاہی امام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جامع مسجد کی کھدائی کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح جو بھی سچائی ہوگی وہ لوگوں کے سامنے آ جائے گی۔ ہندو مہاسبھا نے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب وارانسی کی گیان واپی مسجد میں تالاب کے فوارے کو لے کر ہندو فریق شیولنگ ملنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔