منگلورو 2؍مئی (ایس او نیوز) چامراج نگر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹکا میں بی جے پی کی لہر ایک طوفان میں بدل جانے کی بات کہی تھی اس پر طنز کرتے ہوئے مرکز کے ماتحت علاقے(یونین ٹیریٹری) پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ نارائن سوامی نے کہا ہے کہ :’’اگریہ بی جے پی کی آندھی یا طوفان ہے تو پھر اس سے کرناٹکا کی ریاست تباہ ہوجائے گی ۔‘‘
مودی اور ان کی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے نارائن سوامی نے کہا کہ یہ دوغلی پالیسیوں پر عمل کرنے والے ہیں۔ کانگریس پر بدعنوانیوں کا الزام لگاتے ہیں اور کرناٹکا میں ایڈی یورپا کو وزیر اعلیٰ کی طور پر پیش کرتے ہیں۔ریڈی برادران پر مقدمات چل رہے ہیں۔ ایسے داغدار کردار والوں کو بی جے پی کی طرف سے انتخابی امیدوار بنانا بڑے شرم کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹکا میں سدارامیا کی قیادت میں کانگریسی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے بے شمار منصوبوں پر عمل کیا ہے۔ کانگریس نے کرناٹکا میں 98% انتخابی وعدوں کو پورا کیا ہے۔ جبکہ مودی حکومت نے اپنے وعدے پورے کرنے کے بجائے این ڈی اے حکومت کے منصوبوں کو آر ایس ایس کے رنگ میں ڈھال کر نئے طریقوں سے پیش کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
مرکزی حکومت پر سنگین الزامات کی برسات کرتے ہوئے نارائن سوامی نے کہا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ، انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ اور سی بی آئی کو اپنے مقاصد پورا کرنے کے لئے غلط طریقے سے استعمال کیا جارہاہے۔انہوں نے سدارامیا حکومت کو غریبوں ، کسانوں اور پسماندہ طبقات کا ہمدرد اور غم گسار بتاتے ہوئے سوال کیاکہ کیا مودی حکومت میں دلتوں، کسانوں اور اقلیتوں کو انصاف ملا ہے؟
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس صرف فرقہ وارانہ ایجنڈا ہے ،جبکہ کرناٹکا کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں اور امن وامان کی ضرورت ہے، اور یہی کانگریس کا ایجنڈا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ بی جے پی ایک موقع پرست سیاسی پارٹی ہے اس لئے گزشتہ بار پارٹی سے خارج کیے گئے ایڈی یورپا کو ہی نہ صرف پارٹی میں دوبارہ شامل کیا ہے ،بلکہ ان پر عدالت میں مقدمات زیرسماعت رہنے کے باوجود انہیں متوقع وزیراعلیٰ کے طور پر بھی سامنے رکھا ہے۔