کنداپور 4 فروری (ایس او نیوز) اُڈپی اور کنداپور کی سرکاری کالجوں میں باحجاب مسلم طالبات کی مخالفت اور اُنہیں حجاب اُتار کر کالج میں داخل ہونے کا فرمان جاری ہونے اور کالجوں میں اُن کا داخلہ ممنوع کرنے کےبعد اب کنداپور کی پرائیویٹ کالجوں میں بھی حجاب اُتارنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔
آج جمعہ کو جیسے ہی طالبات نے کنداپور کے معروف بھندارکر کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی، انہیں گیٹ پر ہی روک کر حجاب اُتارنے کے لئے کہا گیا، جس کے بعد طالبات نے کالج کی گیٹ کے باہر ہی احتجاج پر بیٹھ گئیں۔
ان طالبات کی حمایت میں سیکڑوں مسلم طلبہ بھی کالج کی گیٹ کے سامنے احتجاج میں شامل ہوگئے اور کلاسس میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کالج کے باہر پولیس بندوبست سخت کیا گیا۔ طالبات کے ایک بہت بڑے گروپ نے کالج گیٹ کے روبرو بیٹھتے ہوئے احتجاجی طور پر راستہ روکے رکھا اور کالج انتظامیہ اور پرنسپال کے خلاف نعرے بازی شروع کی ۔ جس کےدوران "حجاب ہمارا حق ہے" ، " ہمیں انصاف چاہیے " جیسے نعرے فضا میں گونجتے رہے
احتجاجی طالبات نے الزام لگایا کہ انہیں دھکے دے کر کالج سے باہر نکالا گیا ۔ ان کے ساتھ کتوں اور جانوروں جیسا سلوک کیا گیا ۔ انہیں سڑک پر کھڑا رہنے پر مجبور کرکے ذہنی ہراسانی سے گزارا گیا ۔یہاں تک کہ طالبات کو اپنی فطری ضرورت کے لئے قریبی ہاسپٹل کا واش روم استعمال کرنا پڑا ۔
اس موقع پر احتجاج میں شامل ہونے کے لئے آئے ہوئے طالبات کے والدین نے ان کے بچوں کو حجاب پہننے کی وجہ سے کالج سے باہر نکالنے اور سڑک پر کھڑا کرنے کے بارے میں سوالات کیے تو کالج ذمہ داران اور پولیس نے صرف اتنا کہا کہ وہ سرکاری حکم پر عمل کر رہے ہیں اور اپنا فیصلہ واپس نہیں لے سکتے۔
اس موقع پر طالبات نے بتایا کہ کالج کے پروسپکٹس میں صاف صاف لکھا گیا ہے کہ کالج میں طالبات کو حجاب پہننے کی آزادی رہے گی اور یہ پروسپکٹس قریب ہفتہ قبل ہی دیا گیا ہے۔ مگر انتظامیہ اپنی بات پر آڑ گئے کہ انہیں سرکار کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ باحجاب طالبات کو کالج کیمپس میں بھی داخل ہونے نہ دیا جائے۔
طالبات کے والدین نے جب یہ کہا کہ اگر داخلہ کے وقت ہی حجاب کے تعلق سے یہ قانون بتا دیا جاتا تو پھر وہ اپنے بچوں کو کسی دوسرے کالج میں داخلہ دلواتے ۔ اس پر کالج کے ذمہ داران نے یہ دلیل دی کہ :" اگر حجاب کے ساتھ طالبات کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی تو پھر دوسرے طلبہ زعفرانی شالیں اوڑھ کر آئیں گے ، اور ہم حالات کو قابو سے باہر ہونے نہیں دینا چاہتے ۔"
ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے طالبات نے کالج انتظامیہ کی نئی پالیسی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر دوسرے طلبہ شالیں اوڑھ کر آتے ہیں تو اس سے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اُنہیں بھی شال اوڑھ کر آنے دیں، ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ طالبات کا کہنا تھا کہ ان کے والدین بھی اسی کالج سے فارغ ہوئے ہیں اور وہ سب کے سب حجاب پہن کر ہی کالج آتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ ہم پہلی بار یہاں حجاب پہن کر آرہے ہوں۔ طالبات کے والدین اور سرپرستوں نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم حجاب کے بغیر اپنی بچیوں کو کالج ہرگز نہیں بھیجیں گے، بھلے اس کے لئے ہمیں کالج انتظامیہ کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکٹانا پڑے یا پھر احتجاج کرنا پڑے۔
کنداپور کی ایک اور پرائیویٹ کالج بی بی ہیگڈے کالج میں بھی آج مسلم طالبات کو حجاب پہن کر آنے کی پاداش میں کالج سے باہر کیا گیا ہے، طالبات نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بی بی ہیگڈے کالج میں نو مسلم طالبات زیر تعلیم ہیں جو باحجاب کلاسس اٹیند کررہی تھیں، مگر آج اچانک اُنہیں حجاب اُتارنے کے لئے کہا گیا ہے اور نہ اُتارنے کی صورت میں گھر جانے کے لئے کہا گیا ہے، طالبات نے بتایا کہ اُنہوں نے حجاب اُتارنے سے انکار کردیا ہے اور گھر آگئے ہیں۔
واقعے کے بعد کنداپورسمیت پڑوسی علاقوں بیندور اور شیرور کے مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اس تعلق سے آج جمعہ کو کنداپور میں مسلم ذمہ داران کی ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی ہے جس میں مسلم کمیونٹی کے لیڈران نے حالات کاجائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا ہے۔ مسلم لیڈر اور سماجی کارکن جناب یاسین ہیماڈی نے بتایا کہ اُڈپی طالبات نے معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے جس کی سنوائی 8 فروری کو ہوگی، ہم اس بات پر غور کررہے ہیں کہ آیا ہائی کورٹ کی سنوائی ہونے تک ہم انتظار کریں یا پھر کیا کریں اس پر بات چیت ہورہی ہے۔
اس دوران کنداپور سرکاری کالج کی طالبات، بھنڈارکر کالج اور بی بی ہیگڈے کالج کی طالبات کی طرف سے کنداپور اسسٹنٹ کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں طالبات نے بتایا ہے کہ امتحان کے لئے صرف دو ماہ کا وقت باقی بچا ہے اور ایسے میں اُنہیں حجاب کے نام پر کالج میں حاضری نہیں دی جارہی ہے۔ طالبات نے اے سی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اُنہیں دستور ہند میں دئے گئے حق کے تحت حجاب پہننے کی اجازت دی جائے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے میں حائل رکاوٹ کو دور کیا جائے۔