امراؤتی،15؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مسلمانوں کے جمعہ کے بند کے خلاف سنیچر کو بی جےپی کے بند کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کے بعد امراؤتی میں حالات بہتر ہورہے ہیں تاہم کشیدگی برقرار ہے۔اس دوران پولیس نے دھر پکڑ کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔اس خبر کے لکھے جانے تک ۵۰؍ افرادکو فسادسے متعلق مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرلیاگیاہے جبکہ بی جےپی کے کم از کم ۲؍ سینئر لیڈروں کو ان ہی کے گھر پر نظر بند کردیاگیا ہے۔
دوسری جانب ناندیڑ، مالیگاؤں اور امراوتی میں حالات کے بگڑنے کے بعد مزید کسی علاقے میں اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے ریاستی حکومت سرگرم ہوگئی ہے۔ریاستی پولیس ہیڈ کوارٹرز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ڈی جی) رینک کے ۴؍ افسران کو حساس پولیس رینج اور شہروں میں تعینات کردیاہے۔
واضح رہے کہ محکمہ پولیس میں پولیس رینج کی قیادت عام طور پر انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدہ کا افسر کرتا ہے ، اے ڈی جی کا عہدہ اس سے ایک رینک اوپر ہوتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس رینج کی قیادت کیلئے اے ڈی جی کی تقرری کا فیصلہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سنجے پانڈے اور وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل کے درمیان میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کو امید ہے کہ اے ڈی جی رینک کے افسر اپنے وسیع تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے حساس علاقوں میں موثر طریقے سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھ سکیں گے۔
اُدھر امراوتی میں حالات تیزی سے بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں البتہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ حکم امتناعی کے ساتھ ہی ساتھ انٹرنیٹ خدمات پر عائد پابندی کو بھی برقرار رکھاگیاہے جبکہ دوسری جانب پولیس سرگرم ہے۔اس نے ۱۵؍ ایف آئی آر درج کرکے اب تک ۵۰؍ افراد کو فساد کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرکے کورٹ میں پیش کیا ہے۔ شہر کے راج کمل چوک،نمونہ ،جواہر گیٹ اور دیگر ۱۰؍ حساس علاقوں میں پولیس کا سخت بندوبست ہے۔پولیس نے امن قائم رکھنے کی کوشش کے سلسلہ میں بی جے پی امراؤتی دیہی کی صدر نیویدیتا چودھری اور سابق وزیر انیل بونڈے کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ہے۔ امراؤتی ضلع کے قریب جڑواں شہر اچل پور پرتواڑہ میں بھی تناؤ کی صورتحال کے مد نظر دفعہ ۱۴۴؍ لگا دی گئی ہے ۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق)راجندر سنگھ سنیچر کی شام ہی امراؤتی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے خیمہ زن ہیں۔ اس کے علاوہ اے ڈی جی (ٹریفک) بھوشن کمار اپادھیائے کو ناگپور اور گڈچرولی میں حالات پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔