نئی دہلی،13؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس صدر راہل گاندھی نے لوک سبھاانتخابات کرانے کے معاملے میں مرکزی الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کیاہے-کانگریس صدرنے پہلی بار اتنے واضح انداز میں الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال کھڑے کیے ہیں - انہوں نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کے کم و بیش تمام فیصلوں سے بی جے پی کو مددملی ہے-راہل گاندھی نے ایک نجی چینل کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں لوک سبھا انتخابات 7مراحل میں وزیر اعظم نریندر مودی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے جاتے ہیں - انہوں نے کہاکہ ان اقدامات میں سوچ سمجھ کر اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ کہاں کب انتخابات کرائے جائیں -بی جے پی کے رہنماؤں کو جہاں بھی بعد میں تشہیرکرنی تھی، وہاں بعد کے مراحل میں انتخابات رکھے گئے ہیں -راہل گاندھی نے اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو نوٹس ملنے پر بھی سوال اٹھائے-انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی اور اپوزیشن لیڈر ایک ہی بات کہتے ہیں تو وزیر اعظم نریندر مودی کو سزا نہیں ملتی-جبکہ ٹھیک ویسے ہی معاملے میں اپوزیشن رہنماؤں کو نوٹس مل جاتا ہے، ان پکڑ لیا جاتا ہے، ان سے جواب مانگا جاتا ہے- راہل گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی غلط بولتے ہیں اور انہیں کلین چٹ مل جاتی ہے-راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ یہ تو سو فیصد طے ہے کہ الیکشن کمیشن دباؤمیں کام کر رہا ہے-
راہل گاندھی نے اگرچہ، یہ نہیں کہا کہ اگر ان کی پارٹی حکومت میں آتی ہے تو الیکشن کمیشن پر کوئی ایکشن لیا جائے گا- راہل گاندھی نے ای وی ایم ہٹانے جانے کے سوال پر کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو برقراررکھتا ہے یا خارج کرتا ہے-