بنگلورو،23؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی میں آج کسانوں کے قرضے معافی کے معاملہ پر حکمران کانگریس اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان پھر گرماگرم بحث ہوئی جس کے نتیجہ میں آج بھی ایوان کی کارروائی میں خلل پڑا۔ ریاستی بجٹ میں پچھلے ایک ہفتہ سے چل رہی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سدارامیا نے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا معاملہ جیسے ہی اٹھایا تو اپوزیشن بی جے پی لیڈر جگدیش شٹر نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کا ایک لاکھ روپئے تک کا قرضہ معاف کردیا جائے۔ اس پر حکمران پارٹی اور بی جے پی اراکین کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے جیسے ہی کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا معاملہ اٹھایا اس سے غیر مطمئن بی جے پی اراکین نے اسپیکر کے سامنے کے حصہ میں داخل ہوکر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس وقت اسپیکر کی کرسی پر براجمان ڈپٹی اسپیکر شیوشنکر نے اپنی اپنی کرسیوں پر واپس جاکر بیٹھنے کی اپوزیشن اراکین سے درخواست کی۔ اس کے باوجود وہ 10؍منٹ تک وہیں کھڑے رہے۔ اس درمیان وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کوآپریٹیو بینکوں اور اداروں سے کسانوں نے جو 50؍ہزار روپئے کا قرضہ لیا تھا اس کو معاف کرنے سے حکومت پر 8؍لاکھ 165؍کروڑ روپئے کا بوجھ پڑا۔اس پر مداخلت کرتے ہوئے جگدیش شٹر نے کہا ’’ آپ نے کہاتھا کہ مرکزی حکومت سے امداد آنے پر کسانوں کے قرضے معاف کئے جائیں گے۔‘‘ حکمران پارٹی کے رکن کے این راجنا نے کہاکہ مرکزی حکومت سے 2008سے اب تک ایک لاکھ 1800ہزار 724کروڑ روپئے قومیائے بینکوں نے قرضے جاری کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں 2؍لاکھ گیارہ ہزار کروڑ روپئے قومیائے بینکوں نے قرضے دیئے ہیں۔ اس رقم میں نیرو مودی، وجئے ملیا بھی حصہ دار ہیں بلکہ سب سے بڑی رقم انہیں کو گئی ہے۔ اس لئے ریاست میں حکمران کانگریس پر الزام لگانا مناسب نہیں۔ اس مرحلہ پر بی جے پی لیڈروں نے کہاکہ نیرو مودی اور وجئے ملیا کو یوپی اے کے دور اقتدار میں قرضے دیئے گئے تھے۔ جب کہ کانگریس اراکین نے بھی اس طرح کے الزامات این ڈی اے حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی پر لگائے تو دونوں پارٹیوں کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی۔ اس درمیان راجنا نے نیرو مودی اور وجئے ملیا کا ذکر باربار اٹھاکر جگدیش شٹر کا منھ بند کروانے اسپیکر سے درخواست کی اور اپنا جواب جاری رکھنے وزیراعلیٰ سے کہا حکمران پارٹی سے پوچھا کہ پارلیمان میں کانگریس کیا اتنی کمزور ہے کہ ایسے معاملات اٹھا نہیں سکتی۔؟ لوک سبھا میں اپوزیشن کانگریس لیڈر ملیکارجن کھرگے کیا کررہے ہیں؟ اس کے بعد بی جے پی لیڈر ایوان کے کنویں میں داخل ہوکر دھرنا شروع کردیا اورغنڈہ گردی والی حکومت کے نعرے بھی لگائے۔ رواں اسمبلی اجلاس کے آج آخر دن وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کو سمجھانے کی کوشش کی۔ راجنا بھی اس ایوان کے رکن ہیں۔ انہیں بھی ایسے معاملات اٹھانے کا حق ہے۔ اس کے بعد بھی بی جے پی اراکین نے اپنا احتجاج جاری رکھا تو وزیراعلیٰ نے انہیں کہاکہ ان تمام کو شرم آنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے یہ الزام لگایا کہ اپوزیشن بی جے پی عمداً انہیں بجٹ پر جواب دینے سے روک رہی ہے۔ اس مرحلہ پر بی جے پی اراکین نے نعرے بازی کی۔ 10؍فی صد والی کانگریس حکومت مرد ہ باد مردہ باد۔ اس شور شرابے کے دوران ڈپٹی اسپیکر نے 10؍منٹ کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بی جے پی اراکین نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور شٹر نے کہاکہ حکومت یہاں بھی سیاست کررہی ہے جب کہ حکومت کو ریاست کے معاملات پر زیادہ توجہ دینی ہے۔ اس مرحلہ پر بی جے پی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے سدارامیا نے کہاکہ بی جے پی کا یہ احتجاج درست نہیں اور نظام پارلیمان قوانین کے خلاف ہے۔