ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات روس افواج کم کرنے پرپر آمادہ

استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات روس افواج کم کرنے پرپر آمادہ

Wed, 30 Mar 2022 11:29:50    S.O. News Service

انقرہ ، 30؍ماررچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) ترکی کے اہم شہر استنبول میں روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی اور یوکرین کے نمائندے ڈیوڈ ارخامیا کے درمیان منگل کو مذاکرات شروع ہوگئے -ایک سفارتی ذرائع نے یہ اطلاع دی- دونوں فریقین کے درمیان یہ میٹنگ ترکی کے ریسارٹ شہر انقرہ کے ڈولمابایس پیلس میں ہو رہی ہے -ترک صدر رجب طیب اردوغان نے میٹنگ شروع ہونے سے قبل وفد سے خطاب کیا اور اس کے بعد وہ ہاں سے چلے گئے -اس دوران استنبول مذاکرات کے فوراً بعد روسی نائب وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ باہمی اعتماد کو بڑھانے کے لئے روس یوکرین کی راجدھانی میں اپنی فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لئے تیار ہے - اس سے قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روسی میزائل حملے میں 7 لوگوں کی موت ہوگئی- دوہفتوں کے وقفے کے بعد ترکی کے صدر طیب اردگان کی ثالثی کے نتیجے میں روس اور یوکرین نے آج بات چیت کا دور دوبارہ شروع کیا - روسی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ روسی بریں اورفضائی حملوں کے نتیجے میں یوکرین کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہوچکی ہے - دو ہفتوں کے دوران روسی افواج نے یوکرین میں 600 سے زائد غیر ملکی کرایے کے دہشت گردوں کو ماردیا ہے -

یوکرین میں امریکی فوجی تعیناتی نہیں:بائیڈن:امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین میں امریکی افواج کی ممکنہ تعیناتی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کی غلط تشریح کی گئی ہے - انہوں نے پولینڈ میں امریکی فوجیوں کے بارے میں بات کی جو یوکرین کے فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں -پولینڈ میں 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے دورے کے دوران مسٹر بائیڈن نے کہا کہ جب امریکی فوجی ’وہاں‘ہوں گے تو یوکرین کی بہادری کی بہت سی مثالیں دیکھیں گے -مسٹر بائیڈن نے پیر کے روز اپنے پچھلے تبصروں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا”اس طرح آپ الفاظ کی ترجمانی کرتے ہیں - میں فوجیوں سے بات کر رہا تھا- ہم فوجیوں کو تربیت دینے میں مدد کے بارے میں بات کر رہے تھے - روس کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پرانہوں نے کہا:یہ ایک اہم ردعمل کو متحرک کرے گا- دنیا بہت کچھ جاننا چاہتی ہے - میں انہیں یہ نہیں بتا رہا ہوں کہ اس کا ردعمل کیا ہوگا-


Share: