نئی دہلی، 8؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے اجوھیا کے رام جنم بھومی -بابری مسجد کے زمینی تنازع کو ثالثی کے ذریعہ حل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ہمیں اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ثالثی کی راہ اختیار کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نظر نہیں آتی ہے۔
آئینی بینچ نے سپریم کورٹ کے سابق جج ایف ایم کلیف اللہ کی قیادت میں تین رکنی ثالثی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں سماجی کارکن اور آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل رام پنچو شامل ہیں۔ ثالثی کا کام فیض آباد میں ہوگا، جس کی رپورٹنگ میڈیا نہیں کرسکے گا۔ آئینی بنچ میں جسٹس گگوئی کے علاوہ، ایس اے بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی چندرچوڑ اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے سبھی فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ثالثی کے لئے نام بتانے کو کہا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں ثالثی کے لئے ایک پینل کی تشکیل کی جانی چاہئے۔
ہندو مہا سبھا ثالثی کے خلاف ہے جبکہ نرموہی اکھاڑا اور مسلم فریق ثالثی کے لئے راضی ہیں۔ مسلم فریق نے عدالت میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہی طے کرے کہ بات چیت کیسے ہو؟