ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتراکھنڈ چاردھام دیواستھانم بورڈ کے خلاف درخواست خارج

اتراکھنڈ چاردھام دیواستھانم بورڈ کے خلاف درخواست خارج

Wed, 22 Jul 2020 11:01:40    S.O. News Service

نینی تال،22؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ و بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کو منگل کے روز جھٹکا دیتے ہوئے اترکھنڈ چاردھام دیواستھانم منیجمنٹ ایکٹ 2020 کی میعاد کو چیلینج کرنے والی ان کی گنگوتری دھام کی پانچ مندر کمیٹیوں کی درخواست خارج کردی۔ چیف جسٹس رمیش رنگناتھ اور جسٹس رمیش چندر کھلبت کی بنچ نے متعلقہ درخواست پر سماعت کے بعد گزشتہ چھ جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور آج اپنا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مندروں کا انتظام دیواستھانم بورڈ کرے گا جبکہ مندر کے اثاثے پر چاردھام شرائن کی ملکیت رہے گی۔ عدالت نے ایکٹ کی دفعہ 22 کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں مندروں کی ترقی کے لئے زمینوں کا حصول مندر شرائن کے ذریعہ سے کیا جائے گا جبکہ بورڈ صرف مندروں کے منیجمنٹ کا کام دیکھے گا۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ایکٹ غیرآئینی اور ہندو مذہب کے خلاف نہیں ہے اور اس سے آئین کی دفعہ 14، 25، 26 اور 31-اے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سوامی اور گنگوتری دھام کی پانچ مندر کمیٹی نے گزشتہ فروری میں اتراکھنڈ دیواستھانم منیجمنٹ ایکٹ کی میعاد کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ سوامی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ حکومت نے بدری ناتھ, کیدارناتھ سمیت سمیت چاردھام کے آس پاس کے 51 مندروں کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔درخواست گزار نے ایکٹ کو غیرآئینی اور آئین کی دفعہ 14، 25، 26 اور 31-اے کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب دہرادون کی این جی او رورل لیٹیگیشن اینڈ انٹیلیمنٹ سینٹر (رلیک)نے ایکٹ کی حمایت کرتے ہوئے مداخلت درخواست دائر کی تھی۔


Share: