ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ابھینندن: سابق پائلٹ نچکیتا کو یاد آیا 20 سال پرانا منظر، کہاخاندان کی رازداری کا کریں احترام

ابھینندن: سابق پائلٹ نچکیتا کو یاد آیا 20 سال پرانا منظر، کہاخاندان کی رازداری کا کریں احترام

Sat, 02 Mar 2019 11:17:20    S.O. News Service

حیدرآباد ، 2 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ہندوستانی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن اس وقت پاکستان کے قبضے میں ہیں،وہ جمعہ شام تک ہندوستان کی زمین پر لوٹے۔اس واقعہ سے لیفٹیننٹ کمبمپتی نچکیتا کے سامنے 20 سال پرانا منظر آ گیا، جب 1999 کارگل جنگ کے دوران انہیں پاکستان نے قیدی بنا لیا تھا۔نچکیتا نے کہا کہ یہ وقت ابھینند کی فیملی کے لئے سب سے مشکل ہوگا اور سب کو ان کی پرائیویسی کا احترام کرنا چاہئے۔

ہندوستانی فضائیہ کے سابق لیفٹیننٹ نچکیتا نے بتایاکہ میں ونگ کمانڈرابھینندن اور ان کے والد کو جانتا ہوں،ان کے والد ایک شاندار کمانڈر اور لیڈر ہیں، میں نے ان کے تحت کام کیا ہے،میں نے ان کی فیملی اور ان کی یونٹ کے لئے بہت خوش ہوں،تمام فوجیوں کی محفوظ واپسی ہمیشہ سے بہترین ہوتی ہے،تمام فوجیوں کے لواحقین ان کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہتے ہیں،وہ ملک کی خدمت کرتے ہیں، اس لیے انہیں اعلی ترین اعزاز ملنا چاہئے۔ بتا دیں کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران فضائیہ کے گروپ کیپٹن نچکیتا کو بھی پاکستان نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا،انہیں بین الاقوامی دباؤ کے سبب 8 دن بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

ایک پرائیویٹ ایئر لائن کے ساتھ بطور پائلٹ منسلک نچکیتا نے بات چیت میں بتایاکہ جب مجھے ابھینندن کے بارے میں معلومات ملی تو میں نے حیرت زدہ رہ گیا اور ان کی سلامتی کے لئے دعا کرنے لگا،اس وقت ان کی فیملی سب سے مشکل وقت سے گزر رہی ہو گی،جب میں پاکستان میں قیدی تھا، اس وقت میرے والدین بدترین دور سے گزرے،ابھینندن کی فیملی کی رازداری کا احترام کرنا ہمارے لئے سب سے اہم ہے۔

نچییتا کے والدکے آرکے شاستری اور ماں کے لکشمی شاستری آندھرا پردیش کے مقامی ہیں اور فی الحال دہلی میں رہتے ہیں۔45 سال کے نچکیتا نے پاکستان میں یرغمال بنے ابھینندن کی حیثیت کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہاکہ اب جو بھی تصویر اور ویڈیو آ رہے ہیں، وہ پاکستان کی جانب سے آ رہے ہیں۔پاکستان دنیا کی نظروں میں بہترین امیج بنانے کے لئے سب کچھ اچھااچھا دکھا رہا ہے،ایک بار ہیلو واپس لوٹ آئیں گے، تبھی سچائی سامنے آئے گی۔ 

بتا دیں کہ 27 مئی 1999 ء میں کارگل جنگ کے وقت گروپ کیپٹن کے نچکیتا مگ27 لڑاکا طیارے سے پاکستان کی فوج کے دراندازوں پر بمباری کر رہے تھے،ان حملوں سے بٹالک سیکٹر میں درجنوں پاکستانی فوجی مارے جا چکے تھے،وہ اب آسمان میں ہی تھے کہ تبھی ان کا ہوائی جہاز گر کر تباہ ہوگیا۔نچکیتا اس سے گھبرائے نہیں اور وہ ہوائی جہاز سے محفوظ باہر نکلنے میں کامیاب رہے، لیکن وہ پاکستان اختیار علاقے (پی او) کے پاس سکاردو میں جا پہنچے تھے،انہیں پاکستانی فوجیوں نے پکڑ لیا۔


Share: