ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئی سی آئی سی آئی ۔ویڈیوکانکیس: سی بی آئی ایس پی کے خلاف معلومات لیک کرنے کی تحقیقات

آئی سی آئی سی آئی ۔ویڈیوکانکیس: سی بی آئی ایس پی کے خلاف معلومات لیک کرنے کی تحقیقات

Mon, 28 Jan 2019 00:02:21    S.O. News Service

نئی دہلی،27 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے اتوار کو دعوی کیا کہ چندا کوچر سے منسلک آئی سی آئی سی آئی بینک فراڈ کیس کی تحقیقات کرنے والے اور 22 جنوری کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے والے پولیس اہلکار سدھانشو دھر مشرا اور دیگر لوگوں کے خلاف اس معاملے میں چھاپہ ماری سے منسلک معلومات مشتبہ طور پر لیک کرنے کی جانچ چل رہی ہے۔سی بی آئی کے ایک افسر نے یہ معلومات دی ہے۔چھاپہ ماری کے ساتھ منسلک معلومات مشتبہ طور پر لیک کرنے کے معاملے کی’انٹیلی جنس تحقیقات‘ کے بعد ایک ایف آئی آر درج ہونے کے ایک دن بعد پولس سپرنٹنڈنٹ سدھانشو دھر مشرا کو بینک سکیورٹیزاینڈ فراڈ سیل دہلی یونٹ سے باہر نکلنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔وہ دسمبر 2017 سے لے کر اب تک چندہ کوچر معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی کی بینکاری اینڈ سیکوریٹیز فراڈ سیل کے ایس پی سدھانشو دھر مشرا کو رانچی ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔انہیں جھارکھنڈ کے دارالحکومت واقع سی بی آئی کی اقتصادی کرائم برانچ میں بھیجا گیا ہے۔سی بی آئی کو شبہ ہے کہ آئی سی آئی سی آئی بینک سے متعلقہ چھاپہ ماری کے معاملے میں معلومات لیک کی گئی ہے۔اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے والے افسر کے کردار تفتیش کے دائرے میں ہے۔سی بی آئی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد افسر کو منتقل کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 22 جنوری کو جس دن چندا کوچر کے خلاف ایف آئی آر درج کیاگیا، اسی دن BS & FC کے جوائنٹ ڈائریکٹر پروین سنہا کو ہٹا کر ان کی جگہ وی مرگیشن کو نیا جوائنٹ ڈائریکٹر بنایا گیا۔ناگیشور راؤ کے دوبارہ سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر بننے کے ایک دن بعد یعنی 11 جنوری کو سنہا نے خود کو اس یونٹ کا سپروائزری افسر بنایا تھا۔سی بی آئی نے نئے ایس پی موہت گپتا کے سپروجن میں 24 جنوری کو چھاپہ ماری کی تھی، جنہوں نے مشرا اور مرگیشن کی جگہ لی تھی۔سی بی آئی کے ایک افسر نے بتایاکہ آئی سی آئی سی آئی بینک فراڈ سی بی آئی کے پاس بے حد اہم معاملات میں سے ایک ہے۔ایک جائزہ لیا گیاتھاجس دوران یہ محسوس کیا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اسے غیر ضروری طور پر زیر التواء رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ساتھ ہی 22 جنوری کو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس بات کا شک تھا کہ منصوبہ بند طور پر چھاپہ ماری کے ساتھ منسلک اطلاعات لیک کی گئی تھیں۔اس معاملے میں مختلف ایک جانچ کی گئی اور ایس پی سدھانشو دھر کے کردار شک کے دائرے میں آگئے ، جس کی وجہ سے ان کا ٹرانسفر رانچی کیا گیا۔


Share: