نئی دہلی،22/جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت نام نہاد ”بدعنوانی“ پر لگام لگانے کے لئے سختی کے موڈ میں ہے۔ گزشتہ دنوں ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے 25 سے زیادہ سینئر افسران کو زبردستی ریٹائر کرنے کے بعد اب مرکز نے بدعنوان اور نکارہ ملازمین کو باہر کا راستہ دکھانے کے لئے بینکوں، عوامی فلاحی ادارہ جات اور تمام محکموں سے اپنے اہلکاروں کے سروس ریکارڈ کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ عملے وزارت نے مرکزی حکومت کے تمام محکموں سے ہر قسم کے ملازمین کے کام کاج کا جائزہ تمام اصول و قواعد کے مد نظر کرنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانے کو کہا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کے خلاف جبراً ریٹائرمنٹ کی کارروائی میں من مانی نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تمام وزارتوں اور محکموں سے درخواست ہے کہ وہ عوامی فلاحی شعبہ جات، بینکوں اور خود مختار اداروں سمیت اپنے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکموں کے ملازمین کے کام کاج کا قاعدہ قانون اصول و ضبواط کے مطابق جائزہ لیں۔عملے کی وزارت نے کہا کہ وزارتوں یا محکموں کو اس بات کا یقین کرنا ضروری ہے کہ ایک سرکاری ملازم کو عوامی مفاد میں وقت سے پہلے ریٹائر کئے جانے جیسے مقرر عمل کا سختی سے عمل ہو اور ایسا فیصلہ صوابدید پر نہیں ہو۔ ہدایات کے مطابق تمام سرکاری تنظیموں کو ہر ماہ کی 15 تاریخ کو مقرر فارمیٹ میں رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔