بنگلورو،15؍فروری(ایس او نیوز) جموں وکشمیر کے پلوامہ میں کل ہوئے دہشت گردانہ فدائی حملے میں تقریباً 50سی آر پی ایف جوان کی موت پر ملک بھر میں شدید غم وغصے کی لہر کے درمیان آج کرناٹک میں بھی فوجیوں کی موت پر ہر طرف سے غم وغصے کا اظہار کیاگیا۔
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی دفتر میں ایک تعزیتی پروگرام منعقد کیاگیا جس میں دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس صورتحال سے نپٹنے میں مرکزی حکومت کی کوششوں کی مکمل تائید کااعادہ کیاگیا۔ آج کے پی سی سی دفتر میں مارے گئے جوانوں کی یاد میں 40 موم بتیاں جلاکر انہیں خراج عقیدت پیش کی گئی۔
اس موقع پر کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ پہلی بار بیک وقت اتنے جوانوں کو نشانہ بنانے کی وحشیانہ حرکت کی گئی ہے، آئندہ اس طرح کی حرکت نہ ہونے پائے اس کے لئے سخت احتیاطی قدم اٹھانے پر انہوں نے زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حملہ ملک کی سالمیت پر کیاگیا ہے، لیکن چندعناصر کی طرف سے اسے جذباتی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج ملک جس دور کا سامنا کررہا ہے اس میں سیاست کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ متحد ہوکر دشمن کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ ملک کے دشمنوں سے نپٹنے کے لئے سخت ترین موقف اپنائے۔ اس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مرکزی حکومت کے ساتھ ہیں۔
دنیش نے کہاکہ پچھلے ساڑھے چار سال کے دوران بد قسمتی سے بڑی تعداد میں سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حملوں کا شکار جوانوں کے خاندانوں سے ہمدردی کے ساتھ ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں لگے جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر وادئ کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں جس طرح سر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ان کی سرکوبی کے لئے سختی سے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر کے پی سی سی کے نائب صدر بی ایل شنکر نے کہاکہ تمام نوجوان جومارے گئے ہیں وہ کمسن ہیں۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حملہ آور بھی ایک نوجوان ہی تھا۔ نوجوانوں کے ذہن کو پراگندہ کرکے انہیں ملک کے خلاف بھڑکانے والی طاقتوں کی سرکوبی ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو گمراہی سے بچانے کے لئے مذہبی رہنماؤں اور اداروں کو متحرک ہونے کے ساتھ اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف صف آراء ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آج جب ملک اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کے لئے ایک ساتھ کھڑا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس حملے کے لئے ذمہ دار پاکستان کو منہ توڑ جواب دیاجائے۔ اس موقع پر متعدد کانگریس لیڈر موجود تھے۔