بھٹکل 18؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں ایک طرف حجاب، مسلمانوں سے خریداری نہ کرنے کی اپیلوں اور اذان پر پابندی کی کوششوں سمیت مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھتے معاملات کے درمیان ضلع ہاسن کے بیلور میں واقع تاریخی چنا کیشو مندر میں صدیوں پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سالانہ رتھ اتسو پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔
دوڈامیدورو کے قاضی سید سجادباشا نے 13اپریل کو شروع ہونے والے رتھ اتسو کے پہلے دن قرآن کی تلاوت کی جس کے بعد ہی رتھ کھینچاگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی سالوں سے رتھ کھینچنے سے پہلے قران کی تلاوت کرنے کی روایت ہے ، جسے حالیہ واقعات کے دوران بھی جاری رکھا گیا۔ یاد رہے کہ اسی طرح کی روایت بھٹکل میں بھی پائی جاتی ہے، جہاں رتھ کھینچنے سے پہلے مسلم خاندان شابندری چِرکن کے گھر پہنچ کر مندر انتظامیہ اجازت طلب کرتی ہے اور گھروالوں کو اپنے پروگرام میں شریک ہونے کی دعوت دیتی ہے، جس کے بعد ہی رتھ کھینچا جاتا ہے۔
ہاسن کے بیلور میں واقع چنا کیشور مندر ہوئیسالہ راجاؤں نے تعمیر کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ رتھ کھینچنے سے پہلے قران پاک کی تلاوت سے پروگرام کا اغاز کرنے کی روایت مندر کی 1932 کی تاریخ میں ملتی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ بیلور، ہوئیسالہ راجاؤں کا دارالحکومت تھا۔ یہ ویلاپور‘ ویلور اور بیلہور بھی کہلاتا ہے۔
قاضی شہر نے مندر حکام اور مقامی قائدین کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں قرآن کی تلاوت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 50 سالوں سے رتھ اتسو میں تلاوت قرآن کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سبھی کو چاہے وہ ہندو ہو‘سکھ ہو یا مسلمان مل جل کررہیں۔ ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہوناچاہئیے۔
سابق وزیر اور جنتادل ایس رکن اسمبلی ایچ ڈی ریونا نے جنہوں نے رتھ اتسو میں شرکت کی تھی کہا کہ یہ روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے اور اسے برقرار رہناچاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی فرقوں کو مل جل کر رہناچاہئیے۔ پتہ چلا ہے کہ اس مندر کے احاطہ میں غیر ہندو تاجروں کو بھی دکانیں لگانے بھی دیاگیا۔ جاریہ سال 15 مسلمان تاجروں نے یہاں دکانیں لگائیں حالانکہ ریاست میں مندروں کے احاطہ میں مسلم دکانداروں کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ چند ماہ سے ریاست فرقہ وارانہ مسائل میں الجھی ہوئی ہے جس کی شروعات حجاب تنازعہ سے ہوئی تھی۔ حجاب تنازعہ کے بعد جاتراؤں اور مندر کے احاطوں میں غیرہندو تاجروں کو کاروبار کرنے نہ دینے کا مطالبہ ہوا۔ اس کے بعد حلال گوشت کے بائیکاٹ کی مہم چلی اور آخر میں مساجد سے لاؤڈاسپیکرس ہٹانے کی بات ہوئی۔