ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مظاہرے کو روکا نہیں جاسکتا،پرامن احتجاج کسانوں کا حق:سپریم کورٹ

مظاہرے کو روکا نہیں جاسکتا،پرامن احتجاج کسانوں کا حق:سپریم کورٹ

Fri, 18 Dec 2020 20:49:08    S.O. News Service

نئی دہلی،18؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) 22روز سے جاری کسانوں کی تحریک کو آج اس وقت تقویت ملی جب سپریم کورٹ نے کہا کہ احتجاکرنا کسانوں کا حق ہے بشرطیکہ احتجاج پرتشدد نہ ہو۔ نیز عدالت نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اس معاملے میں قوانین کی جوازیت پر غور نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی سبرامنیم کی بنچ نے کہا کہ زرعی اصلاحات قوانین کے خلاف اگر کسان ناخوش ہیں تو انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے بشرطیکہ یہ پرتشدد نہ ہو۔بنچ نے کہا کہ اس طرح کے مظاہرے روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے پولیس کسانوں پر طاقت کا استعمال نہ کرے۔ لوگوں کے انسانی حقوق کی بھی پامالی نہیں ہونی چاہئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ دہلی کو بلاک کرنے سے شہر کے لوگ بھوک کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ آپ (کسانوں) کا مقصد بات چیت سے پورا ہوسکتا ہے۔ صرف دھرنے پر بیٹھنے سے نہیں چلے گا۔

بنچ نے کہا کہ وہ فی الحال قوانین کی جوازیت طے نہیں کرے گا، بلکہ وہ مظاہرے کے حق پر غور کرے گا۔اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ مظاہرے میں کوئی بھی ماسک نہیں پہنتا، یہ تشویش کی بات ہے۔ یہ لوگ گاؤں میں جائیں گے اور کووڈ 19 کے انفیکشن میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ کسان دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔دوسری جانب تحریک کو مزید تقویت دینے کیلئے راشٹریہ کسان مہاسنگھ نے سپریم کورٹ میں چل رہی سماعت پر 4 سینئر وکلاء پرشانت بھوشن، دْشینت دَوے، ایچ ایس پھولکا اور کولن گونجالوس سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسان مہاسنگھ کی آج سنگھو بارڈر پر ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔

تومر نے کسانوں کو لکھا 8 صفحہ کا خط: کسانوں کی تحریک سے بے حال مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں کو 8 صفحات پر مبنی ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ زرعی قوانین جسے وہ لوگ اپنے خلاف سمجھ رہے ہیں، دراصل ان کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس خط میں نریندر تومر نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ کسانوں کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں جو درست نہیں۔


Share: