نئی دہلی،8/فروری (ایس او نیوز/ یو این آئی) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ میں حکومت سے ا س قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سکھوں نے الزام لگایاکہ اس قانون کے سلسلے میں حکومت عوام کوگمراہ کررہی ہے اور اس کی زد میں پہلے مسلمان آئیں گے اس کے بعد سکھ آئیں گے۔
انہوں نے اس قانون کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ قانون سماج اور ملک کو تقسیم کرنے والا ہے اور حکومت بہت سوچ سمجھ کر یہ قانون لائی ہے تاکہ اقلیتوں کو تقسیم کرکے اپنا الو سیدھا کیا جاسکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت حکومت جو کچھ بھی اس قانون کے بارے میں کہہ رہی ہے اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور وہ اس قانون کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہی ہے۔سردار ہربنس سنگھ نے کہاکہ تقریباً دو مہینے (مظاہرہ کا 53 واں دن) سے اس سیاہ قانون کے خلاف جس طرح یہاں کی خواتین نے لڑائی لڑی ہے وہ بہت ہی خوش آئند ہے اور سکھ طبقہ مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے پرامن مظاہرے کو طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن شاہین باغ مظاہرہ ہر امتحان میں کامیاب رہا ہے اور بدنام کرنے والوں کومنہ کھانی پڑی۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ لوگ یہاں آکر دیکھیں، خاتون مظاہرین کے تئیں ان کا نظریہ بدل جائے گا۔مظاہرہ میں شامل ایک بزرگ سکھ نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک کے لوگ خلاف ہیں اور سکھ طبقہ بھی اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون کی تلوار پہلے مسلمانوں پر چلے گی اور اس کے بعد سکھوں پر بھی چلے گی۔ یہی حکومت کا منشا بھی ہے خواہ وہ کچھ بھی دعوی کرلے۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے’این آر سی اور این پی آر کے سلسلے میں شہریت کے ثبوت طلب کئے جارہے ہیں۔ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین ہے۔