ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت کو عدالت کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں، مرکزی سرکارہمارے صبر کا امتحان نہ لے: سپریم کورٹ

حکومت کو عدالت کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں، مرکزی سرکارہمارے صبر کا امتحان نہ لے: سپریم کورٹ

Mon, 06 Sep 2021 23:55:50    S.O. News Service

نئی دہلی،6؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  سپریم کورٹ نے ٹری یبونل ریفارمز ایکٹ اور تقرریوں کے حوالے سے مرکزی حکومت سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمنا نے کہا کہ ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ مرکز کو اس عدالت کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں، لیکن ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔ ہم نے پہلے بھی پوچھا تھا کہ آپ نے ٹری بیونلز میں کتنی تقرریاں کی ہیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ٹری بیونلز میں تقرریاں کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔سی جے آئی نے کہاکہ ہمیں بتائیں کہ کتنی تقرریاں کی گئی ہیں۔ ہمارے پاس صرف تین آپشن ہیں، پہلا، قانون پر پابندی لگادیں، دوسرا، ٹری بیونلز کوبند کردیں اور خود ٹری بیونلز میں تقرری کریں اور پھر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے معاملے پر آپ نے جس طرح سے اقدامات کیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ لیکن ٹری یبونل میں ممبر وں کی تقرری میں اتنی تاخیر کی کیا وجہ ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ این سی ایل ٹی میں خالی آسامیاں پڑی ہیں۔ اگر آپ کو اس عدالت کے دو ججوں پر یقین نہیں ہے تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ فی الحال ہم نئے قانون پر بھروسہ نہیں کر سکتے جبکہ ہمارے پہلے کے احکامات پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ایس جی تشار مہتا نے وزارت خزانہ کا 6/09/2021کا خط پڑھا کہ ارکان کی تقرری کے بارے میں فیصلہ 2 ماہ کے اندر لیا جائے گا۔ جسٹس ناگیشور راؤ نے کہا کہ ہم جن ٹری بیونلز کی بات کر رہے ہیں ان کی سفارشات اس اصلاحاتی بل کے وجود میں آنے سے دو سال پہلے بھیجی گئی تھیں۔ آپ نے ان کی تقرری کیوں نہیں کی؟ قوانین کے مطابق کی گئی سفارشات جیسے وہ تب موجود تھیں، انہیں کیوں نہیں کیاجاتا؟جسٹس ڈی وی ای چندرچوڑ نے کہا کہ آئی بی سی کے بہت سے کیس میرے پاس آرہے ہیں، وہ کارپوریٹ کیلئے بہت اہم ہیں، لیکن اگر این سی ایل اے ٹی اور این سی ایل ٹی میں تقرریاں نہیں ہوتیں تو کیسوں کی سماعت نہیں ہوسکتی۔آرمڈ فورسز ٹری یبونل میں پوسٹیں بھی خالی ہیں۔ اس لیے تمام درخواستیں ہمارے پاس آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے این سی ڈی آر سی کیلئے سلیکشن کمیٹی کی سربراہی کی ہے، سی جے آئی نے این سی ایل اے ٹی کی صدارت کی ہے۔ جسٹس راؤ نے کمیٹیوں کی صدارت کی ہے۔ نئے ایم او پی میں یہ شرط ہے کہ پہلے آئی بی ناموں کی منظوری دے پھر ہم سفارشات بھیجیں لیکن تجویز کردہ ناموں کو یا تو حذف کر دیا گیا ہے یا نہیں لیا گیا ہے۔


Share: