ہوناور:12؍جنوری (ایس اؤ نیوز) تعلقہ کے کاسرکوڈ ٹونکا بندرگاہ سے سمندر میں مچھلیوں کے شکار کے لئے نکلی ایک پرشین بوٹ ڈوبنے سے لاکھوں روپیوں کا نقصان ہوا ہے جس کو دیکھتے ہوئے ماہی گیر الزام لگارہے ہیں کہ کشتی ڈوبنے کی وجہ مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کررہی ٹھیکدار کمپنی کی خامیاں ہیں۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق البہار نامی پرشین بوٹ سمندر میں مچھلیوں کے شکار کے لئے نکلی تھی بتایا جارہا ہے کہ مچھلیوں کو پکڑنے کی جال کی درستی کے لئے بوٹ جب بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر رُکی تو اُسی جگہ دھنستی چلی گئی ، جس سے بوٹ کے اندر پانی بھرنا شروع ہوگیا۔ بتایا جارہا ہے کہ متعلقہ جگہ پر ماہی گیری بوٹ عام طور پر لنگر انداز ہوتی رہتی ہیں، لیکن متعلقہ مقام پر بندرگاہ تعمیر کررہی ٹھیکدار کمپنی کی طرف سے کیچڑ نکالنےکی وجہ سے بوٹ وہیں دھنستی چلی گئی تھی اور بوٹ میں پانی بھر گیا تھا جس سے بوٹ مالک کو لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ بوٹ کے نچلے حصہ سمیت بوٹ کے انجن کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے اور نقصان کا تخمینہ 3سے 4لاکھ روپئے لگایا گیا ہے۔دراصل یہاں ٹونکا بندرگاہ کی تعمیر کا کام جاری ہے جس کے لئے کمپنی نے متعلقہ جگہ سے کافی کیچڑ نکال کر باہرکیا ہے، اسی وجہ سے بوٹ کو نقصان پہنچاہے۔ ماہی گیرلیڈروں نے کمپنی کو اپنا تعمیری کام روکنے پر زوردیتےہوئےکہاہےکہ اگر کام نہیں روکاگیا تو آئندہ دنوں میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔ بندرگاہ علاقے میں تعمیر ی کام جاری رہنے سےریت کسی ایک جگہ رکنے کے بجائے ادھر ادھر کھسکتی جارہی ہے، ریت کے کھسکنے سے سمندر اور ندی کے سنگم پر پانی کے بہاؤکی رفتار تیز تر ہونے سے ماہی گیربوٹوں کو دشواری ہونے کی ماہی گیروں نے شکایت کی ہے۔