ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کیا ایم پی اننت کمار ہیگڈے دھمکی دے کرہوناور میں بندرگاہ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ہیگڈے کے دھمکی آمیز خطاب پر ماہی گیروں میں ناراضگی

کیا ایم پی اننت کمار ہیگڈے دھمکی دے کرہوناور میں بندرگاہ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ہیگڈے کے دھمکی آمیز خطاب پر ماہی گیروں میں ناراضگی

Mon, 31 Jan 2022 19:42:02    S.O. News Service

کاروار:یکم فروری؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) کیا اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے دھمکی دے کر احتجاجیوں کی آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ دھمکی دے کر ہوناور کے کاسرگوڈ میں بندرگاہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال اس وقت ضلع اُترکنڑا کے عوام میں گردش کررہا ہےکیونکہ حال ہی میں انہوں نے ایک پروگرام میں شریک ہوتے ہوئے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اترکنڑا کے ہوناور میں  بندرگاہ کی تعمیر اگلے دوبرسوں میں مکمل کی جائے گی۔ تم اگر ترقی کی راہ میں ہمارے  ساتھ آتے ہو توتمہارا بھلاہوگا اور اگر اس سے انکارکرکے رکاوٹ پیدا کروگے تو پھر میں خاموش نہیں رہونگااور ہمارا لہجہ بھی بدل جائے گا ۔

یاد رہے کہ ہوناور کے کاسرکوڈ میں پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کی مخالفت میں ماہی گیر احتجاج پر ہیں  مخالفت کے چلتے ایم پی نےسخت لہجہ اپناتےہوئے کہاکہ اگلے ایک سال میں بندر گاہ کی ترقی ہوگی، اور اس کی مخالفت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہیگڈے نے کہا کہ ضلع میں بنیادی سہولیات کی باتیں ختم ہورہی ہیں اور اب معاشی سہولیات کی باتیں شروع ہوئی ہیں۔ انہوں نے  دوٹوک انداز میں  کہا کہ  کون کیا کہتےہیں اور کیسے ناچتے ہیں، میں نہیں جانتا، ہم تو آگے بڑھیں گے ہی۔ تم اگر ہمارے ساتھ چلیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ ہمیں بھی بدلنا پڑےگا اور ہماری آواز بھی بدل جائے گی۔

مقامی کنڑا اخبار کی مانیں تو ہیگڈے کے دھمکی آمیز بیان کے بعد کہاجارہاہے کہ جن ماہی گیروں نے زیادہ ووٹ دے کر ہیگڈے کو ایم پی بنایاتھا انہوں نے ہی  ماہی گیروں کو  بڑی دھمکی دے ڈالی  ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ  کسی کو پوچھ کر ، بول کر ، بحث کرکے آگے جانا نہیں ہے۔

اب  ماہی گیروں کو یہ سوال پریشان کئے ہوئے ہے کہ ترقی تو ٹھیک ہے۔ لیکن ماہی گیروں کو نکال باہرکرکے بندرگاہ کی تعمیر کرنا کتنا صحیح ہے؟ بندرگاہ کی تعمیر سے کتنے روزگار پیدا ہونگے؟ رکن پارلیمان  ماہی گیروں کو کتنے روزگارفراہم کرنے کابھروسہ دیں گے ؟َ  کاروار کی حد تک بات کریں تو رکن پارلیمان نے یہ نہیں بتایا کہ بندرگاہ کی ترقی سے کتنےلوگوں کو روزگار ملے گا؟۔ جب کہ ماہی گیر حکومت سے سہولیات کا مطالبہ نہیں کررہےہیں بلکہ ان کے پیشے کوختم نہ کرنےکی اپیل کررہےہیں۔

کاروار میں موجود ایک بیچ کو بندرگاہ منصوبے کے لئے استعمال کریں۔ اس کے بجائے ماہی گیروں کو سڑک پرلانے والے منصوبہ کی تعمیر کہاں تک صحیح ہے؟ احتجاج میں شامل ہونے والے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایم پی اننت کمار ہیگڈے نے ایک مرتبہ بھی ماہی گیروں سے بات چیت نہیں کی، صرف بندرگاہ کی ترقی کا راگ الاپ رہےہیں۔ ان کے پاس اتنی خوش اخلاقی بھی نہیں ہے کہ وہ ماہی گیروں کے مسائل کو جاننے کی کوشش کریں، صرف بندرگاہ کی ترقی کی باتیں کررہےہیں۔ لیکن اصل مسئلہ  کیا ہے سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ دوبرسوں میں بندرگاہ کی تعمیر تکمیل کرنے کی بات کرتےہیں۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ آننت کمار ہیگڈے یہ خطاب ایک طرح سے ماہی گیروں کو دی جانے والی دھمکی ہی ہے۔

یاد رہے کہ ہیگڈے اس سے پہلے دستور تبدیل کرنےکابیان دے کر تنازعہ کا شکار ہوکر وزارت گنوا چکے ہیں۔ اب یہی ایم پی ماہی گیروں کو دھمکی دے کر بندرگاہ کو ڈیولپ کرنے کی باتیں کررہےہیں۔ اس سے پہلے اقلیتوں کے خلاف بولنے والے اننت کمار ہیگڈے اب خود انہیں ووٹ دے کر کامیاب کرنے والے ماہی گیروں کو ہی دھمکی دے کر بندرگاہ کی ترقی کرنے کی قسم کھارہےہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک رکن پارلیمان ، ماہی گیروں کے مسائل کو جانے بغیر، ان کی اپیل سنے بغیر صرف دھمکی دے کر بندرگاہ کی تعمیرکے لئے آگےبڑھنا بدتمیزی کی مثال ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو کاروار میں بندرگاہ کی ترقی کے لئے صرف ماہی گیر ہی نہیں ، کارواروالے بھی بیچ گنوا کر بندرگاہ کی ترقی کےلئے موقع نہیں دیں گے، ماہی گیروں کے مطابق پانچ مرتبہ بطور ایم پی منتخب ہونے والے اننت کمار ہیگڈے کواتنا تو شعور ہونا چاہئے۔


Share: