کنداپور :24؍ فروری (ایس اؤ نیوز)شہر کے سنگم کے قریب واقع ایک پرائیویٹ کالج کے رابطہ عامہ کے افسرپراسی کالج کے طلبہ و طالبات نے فحش پیغامات ارسال کئےجانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کالج کے سامنے احتجاج کیا اور متعلقہ آفسر کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کامطالبہ تھا کہ متعلقہ آفسر کو جائے وقوع پر بلایا جائے۔
اطلاع کے مطابق کالج کے رابطہ عامہ افسر ناگراج شٹی نائی کمبلی رات کے اوقات میں کالج کی لڑکیوں کو وہاٹس ایپ کے ذریعے فحش مسیجس بھیجا کرتا تھا اور سیلفی بھیجنے کی مانگ کرتا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ طالبات کو موصول ہونے والے ناگراج کے میسجس کی اسکرین شاٹس کنداپور کےسوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ناگراج بیندور کے رکن اسمبلی سُکومار شٹی کے سوشیل میڈیا کا ذمہ دار ہے۔
طالبات کاکہنا ہےکہ اس سلسلےمیں ناگراج کی کارستانیوں کولےکر کئی مرتبہ پرنسپال سے شکایت کی جاچکی ہے لیکن پرنسپان نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کو دیکھتے ہوئے کالج کے طلبا و طالبات احتجاج پر اُترآئے۔ اطلاع ملتےہی پولس جائے وقوع پر پہنچی۔ پولس نے طالبات سے کہاکہ وہ ایک ایک کرکے شکایت درج کرائیں تواُس پر کارروائی کی جائےگی۔ طالبات نے نڈر ہوکر اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ طالبات اس بات پر آڑ گئی تھی کہ متعلقہ آفسر ناگراج شٹی کو اُُن کے سامنے بلایا جائے۔ اور سب کے سامنے معافی مانگے۔ طالبات نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ کالج انتظامیہ کے صدر اور رکن اسمبلی سکومار شٹی کو بھی جائے وقوع پر بلایا جائے ۔ بعد میں کالج پرنسپال امیش نے جائے وقوع پر پہنچ کرطالبات کی درخواست کو وصول کیا اور کالج انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرکے ملزم عملےکے خلاف کارروائی کرنے کا تیقن دیا۔