بھٹکل:3؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) نئے سال 2021کے جنوری اور فروری کے مہینوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کئے جانے سے ریاست کے جن اضلاع میں کووڈ-19کے متاثرین زیادہ ہیں وہاں رات کے کرفیو کو نافذ کرنے اور نئےسال ، کرسمس کےموقعوں پر ہونے والے جشن پر پابندی عائد کرنے کی ماہرین ٹیم نے ریاستی حکومت کو صلاح دی ہے۔
ڈاکٹر سدرشن کی قیادت والی کووڈ ٹکنیکل صلاح کار کمیٹی نے وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کو 8صفحات اور 14نکات پر مشتمل رپورٹ میں جنوری اور فروری میں کووڈ کی دوسری لہر شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ 26دسمبر سے یکم جنوری 2021تک رات 8بجے سے صبح 5بجے تک رات کا کرفیو نافذ کی جائے۔
کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ بنگلورو میں کورونا وائرس ابھی معمول پر نہیں لوٹاہے، اسی لئے دیگر مقامات کے ساتھ بنگلورو میں رات کا کرفیو نافذ کرنا مجبوری ہے۔ نئے سال پر منائے جانے والے جشن کے موقعوں پر عوامی بھیڑ بہت زیادہ ہوتی ہے، جہاں اگر کوئی وائرس سے متاثر ایک بھی فرد شامل ہوجائے تو دوسروں میں پھیل سکتاہےاسی لئے حکومت سخت پابندیاں عائد کرے۔
جنوری اور فروری کے مہینوں میں ریاست بھر میں مذہبی اتسوا، جاترے ،میلے ، تہوار زیادہ منائے جاتےہیں، اسی 25دسمبر کو کرسمس ہے جس میں عوامی گنجانی ہونے کا امکان ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے مذہبی پروگراموں پر روک لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے صلاح دی ہے کہ اسکول اور کالج بند ہیں اگر ان کو کھولنا ہے تو بار ی باری کھولنے کاطریقہ کار اپنایاجائے ، پیشگی اقدامات کے بغیر جلدبازی میں حکومت کوئی فیصلہ نہ لے۔ اب تک حکومت نے کووڈکو روکنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مناسب فیصلہ لیں گے : ریاستی کابینہ کے وزیر برائے صحت عامہ اور خاندانی فلاح وبہبود ڈاکٹر سدھا کر نے کمیٹی کی سفارشات پر جانکاری دی کہ کمیٹی کی طرف سے رات کا کرفیو جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے گفتگوکرنے کے بعد ہی کارروائی آگے بڑھے گی۔ ساتھ ہی وزارت داخلہ اور وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود کے افسران کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔