کاروار:17؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) کورونا وائرس کے خوف سےبندکئے گئے کالج منگل کو دوبارہ کھولےگئے۔ لیکن کالجوں میں طلبا کی حاضری نہ کے برابر رہی۔ کیونکہ آف لائن کلاسس میں حاضر ہونےوالے طلبا کو کووڈ-19نگیٹیو رپورٹ لانا لازمی تھا تو طلبا کالج کا رخ کرنےکےبجائے ضلع اسپتال کے صحن میں اپنے تھوک کا نمونہ دینے کےلئے قطار میں کھڑے نظر آئے۔
اتوار اور پیر کو سرکاری چھٹی ہونےکی وجہ سے نمونےکی رپورٹ ملنے میں دیری ہوئی، اس کے علاوہ کچھ طلبا اپنے تھوک کا سیمپل دینے آخری لمحات میں پہنچے تھے جس کی وجہ سےبھی کالج کی شروعات میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حفاظتی اقدامات: 10مہینوں کے بعد کالجوں میں طلبا کا استقبال کرنے کےلئے حفاظتی اقدامات کئےگئےہیں۔ سرکاری ڈگری کالج کے پرنسپال ڈاکٹرکلپنا کیروڈیکر کےمطابق حکومت کی طرف سےکووڈ-19کے متعلق جاری کردہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے کالج میں کلاسس کی شروعات کی جارہی ہے۔ کمروں کو سینی ٹائز کیاگیا ہے، طلبا کےڈسک اور بنچ کےدرمیان ایک میٹر کا فاصلہ رکھاگیا ہے۔ طلبا کی تعداد 60تک محدود کی گئی ہے۔ طلبا کو ماسک پہننا لازمی قرار دیاگیا ہے۔ طلبا اپنے ساتھ لائے ہوئےکھانےکو کسی دوسرےکے ساتھ شریک کرنےسےمنع کیاگیا ہے اس کے علاوہ گروپ کی شکل اختیار کرنےپر بھی پابندی عائد کی گئی ہے ۔

شہر کی دیگر کالجس دیویکر کامرس کالج، پوسٹ گریجویٹ سنٹر، شیواجی ڈگری کالج میں بھی طلبا کی حاضری متاثر رہی۔ تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کاکہنا ہےکہ کووڈ -19کی رپورٹ حاصل ہونےمیں دیری ہورہی ہےامید ہےکہ ایک ہفتہ کے بعدہی طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔